fbpx

ایران کے شہرشیران سے گوادرکےخلاف سازشیں،دھماکے ،دہشت گردیاں جاری:گرفتارملزمان کے خطرناک انکشافات

گوادر:ایران کے شہرشیران سے گوادرکے خلاف سازشیں،دھماکے،دہشت گردیاں جاری:گرفتارملزمان کے خطرناک انکشافات،اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دیگر قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان کے ضلع کیچ میں انٹیلی جنس بیس آپریشن کرتے ہوئے 3 ایسے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جو گزشتہ ماہ گوادر میں ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہیں۔

ان ملزمان کو ایران کے شہرشیران سے ایک ایرانی دہشت گرد سرغنہ رسول بنگش گوادراورگردونواح کے علاقوں میں دہشت گردی کےلیے استعمال کررہا تھا

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چہ بہار کے علاقے شیران میں ایران کے حساس علاقے سے رسول بنگش بڑے عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردی کارروائیاں کروا رہا ہے اوریہ ایرانی خفیہ ایجنسیوں کے علم میں لائے بغیرممکن نہیں ہوسکتا

ادھر کوئٹہ سے سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تربت کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور شعیب نامی شخص کو گرفتار کیا، بعد ازاں شعیب کی فراہم کردہ معلومات پر سیکیورٹی اداروں نے ایک اور مقام پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، یہاں سے سیکیورٹی اداروں نے متعدد ہتھیار اور دھماکا خیز مواد کے ساتھ دستی بم بھی برآمد کیے۔

کوئٹہ سے سی ٹی ڈی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان تنیوں ملزمان کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزمان نے گوادر میں ہونے والے خود کش حملے میں معاونت کی تھی اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ ملزمان سیکیورٹی اداروں سمیت شہریوں پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ اس دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہیں جنہوں نے گوادر میں خود کش حملہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس واقعے میں خود کش بمبار نے گوادر میں چینی پاشندوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں دھماکے کے مقام پر موجود 4 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔واقعے میں ہلاک ہونے والے بچے سڑک کے کنارے کھیل رہے تھے جبکہ گاڑی کا ڈرائیور واقعے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک عارف نے تفتیسی اہلکارووں کو بتایا کہ اس کے بھائی احمد نے خود کش بمبار کو ایران کے علاقے رامین سے گوادر منتقل کیا تھا۔ملزم نے مزید بتایا کہ اس نے خود کش بمبار کو 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب وصول کیا اور بعد ازاں اسے کسٹم ویئر ہاؤس کے قریب رہائش فراہم کی۔

عارف نے انکشاف کیا کہ ایران میں شیران چاہ بہار کے علاقے کا رہائشی رسول بنگش اس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، اس نے مزید انکشاف کیا کہ رسول بنگش نے 2019 میں گوادر کے پی سی ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کو منتقل کرنے کے لیے اپنے مرحوم والد کو استعمال کیا تھا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک کے دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے آپریشن سے متعلق منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!