ریاست مدینہ اپنے دارلخلافہ میں سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کرے گی جس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقلیتوں کو اپنی مذہبی عبادات میں مکمل آزادی ہو یا انہیں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال میں کامل خود مختاری۔ غیر مسلموں کو جو حقوق اسلام نے دئیے ہیں کوئی اور مذہب اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی انسانی تاریخ سے اسلام کے انصاف جیسی مذہبی رواداری و ہم آہنگی کی کوئی نظیر پیش کی جا سکتی ہے۔

ریاست اسلامی پر لازم ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی جان ومال عزت و آبرو کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا ہے مساجد کی تعمیر و دیکھ بھال مانگے ہوئے عوامی چندے پر ہو اور ریاست مدینہ چرچوں، گردواروں اور مندروں کی تعمیر شاہی خزانے سے کرے۔ مملکت خداداد جسے خالصتاً اسلام نے نام پر بنایا گیا۔

آج اس اسلامی ریاست کے حکمران ان اغیار کی قربت حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے جا رہے ہیں جو مساجد کو شہید کر کے اس جگہ بت خانوں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر ہندوستانی سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ کشمیر میں ایک طرف ہندو ریاست کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم عروج پر ہیں

جبکہ دوسری طرف مساجد کی تالہ بندی بھی۔ تمام بین الاقوامی میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فقط نماز جمعہ کی ادائیگی بھی مہینوں تک نہ ہو سکی۔ جبکہ اسلامی پاکستان میں ریاست کی طرف سے مساجد کی نگہبانی تو درکنار، مسجدوں میں بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن فیس وصول کرنے کی بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔

لاحول ولا قوۃ
کئی دہائیوں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے شکار معاشرے میں اس طرح کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام سے شدت پسند فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکمران طبقے کو سمجھنا ہو گا کہ غیر مسلموں کی محرومیوں کا ازالہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر نہیں کیا جا سکتا۔

Shares: