fbpx

اب بس کردیں ،خدا کے لیے بس کردیں یہ گندی اورمنافقانہ سیاست:مری سے سے پیغام آگیا

مری :اب بس کردیں سیاست:مری سے سے پیغام آگیا،اطلاعات ہیں کہ مری سے ایک ایسا پیغام آگیاہے کہ جس کے بعد اس سانحے پرسیاست کرنے والوں کے منہ میں گُڑ ڈال دیا گیا ،یہ پیغآم وہ پیغآم ہے کہ جس کو نظرانداز کرنے پرایک طرف قوم کو بڑے سانحے کا صدمہ برداشت کرنا پڑرہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی چند سیاسی شعبدہ باز شخصیات اسے اپنی سیاست چمکانے کا بہترین موقع اور ہتھیار سمجھ بیٹھے ہیں

 

 

یہ پیغام ان قوتوں کے لیے واضح ہے جو بغیر دلیل کے بڑی بڑی کہانیاں گڑھ رہے ہیں‌اور پھر اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے قوم کے اس صدمے کو مذاق بنا رکھا ہے

 

 

جہاں ایک طرف مری میں برف باری دیکھنےکی چاہ 21 افراد کی جان لےگئی جس پر پورا ملک سوگوار ہے، مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور تمام داخلی راستے بند کردیےگئے ہیں۔

وہاں سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس حوالے سے مری آنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ مری میں برف باری اور موسم کی شدت کے باعث مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اس لیے محتاط رہیں۔شدید برفباری سے متعلق محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامیہ خاموش رہی

 

 

سوشل میڈیا پر طنزیہ ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والی بچی شہر بانو نے بھی 5 جنوری کو ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں سیاحوں کو مری کی صورت حال کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

مری میں موجود شہر بانو نے برف باری کے بعد کا منظر دکھاتے ہوئے اپیل کی تھی کہ ‘مری میں برف باری کا سن کر اندھا دھند مری کی طرف نہ بھاگیں، بہت زیادہ برف باری کی وجہ سے سڑکیں بند ہوگئی ہیں ، راستے کھلنے کا انتظار کریں، اپنے اور اپنے پیاروں کو مشکل میں نہ ڈالیں’۔

شہر بانو کا کہنا تھا کہ ساری سڑکیں بند ہوچکی ہیں، اس لیے جب سڑکیں کھل جائیں اور ٹریفک جام ختم ہوجائے تو پھر ہی آئیں۔

 

 

ادھر سوشل میڈیا پر اکثریہ پیغام شیئر کیا جارہا ہے کہ سکیورٹی حکام اور دیگر ذمہ داران ہرآنے والے کو خبردار کرتے رہے کہ رش بہت ہوگیا آپ واپس چلے جائیں لیکن ہم کسی کی بات کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں بلکہ پولیس اور دیگرسیکورٹی حکام کو مذاق بنا رکھا ہے

 

 

دوسری طرف یہ بھی وائرل ہورہا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ قومی سانحہ ہے اور اس سانحے پر جہاں پوری قوم غمگین ہے اور سب نے اسے سانجھا دُکھ سمجھ رکھا ہے اور دنیا بھی پاکستان کے اس غم میں برابر کی شریک ہے لیکن کچھ سیاسی شعبدہ باز فقط اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے گھٹیا بیان بازی کررہے ہیں ،

 

 

بعض نے تو لکھا ہے کہ "یہاں مگرمچھ کے آنسو وہ بھی بہا رہے ہیں جنہوں نے دن دیہاڑے 14 بے گناہوں کو لاہور کی سڑکوں پرگولیوں سے بھون کرماردیئے تھے ان کو اس قتل عام کی پرواہ نہیں تھے تو یہاں قدرت کے فیصلے پر آہ وکناں کیوں ہورہے ہیں بس اس لیے کہ یہ ثابت کریں کہ اگرہماری حکومت ہوتی تو وہ فرشتوں کو روح قبض کرنے سے روک سکتے تھے

 

سوشل میڈیا پر اکثروبیشتر نے لکھا ہے کہ یہ غم کی گھڑی ہے سیاسی میلہ نہیں بس خدا کا خوف کھائیں اور اپنے گریبان میں جھانکین کہ ہم کیا کررہے ہیں

 

خیال رہےکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے بھی 5 جنوری کو ملک میں جاری بارشوں اور برف باری کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا تھا ،جس میں 6 اور7 جنوری کو ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کے ساتھ مری،گلیات،کاغان اور سوات سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

 

عث رابطہ سڑکیں بند ہو سکتی ہیں،کشمیر،گلگت اور بالائی خیبرپختونخوا میں برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ شامل تھا۔