fbpx

سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

کراچی:سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر پولیس کی جانب سے بد ترین شیلنگ، متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش جس پر پولیس سے تکرار ہوئی، کارکنان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج سے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں شریک متعدد خواتین بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث متاثر ہوئی ہیں، پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین کو حراست میں لے لیا ہے۔

شہر بھر میں بد ترین ٹریفک جام ہے اور شہر قائد میں ایک ہی وقت میں دو ریلیاں نکلنے کے باعث مختلف علاقوں میں شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

شہر قائد میں ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شارع فیصل سے مارچ کرتے مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کا راستہ روک دیاجس کے باعث شدید بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہے اور ٹریفک کے پی ٹی فلائی اوور سے مائی کلاچی اوربوٹ بیسن کی جانب موڑاجارہاہے۔
مزید پڑھیں: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم کردی گئی

جبکہ دوسری ریلی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے نکالی جارہی ہے، کراچی میں بیک وقت دو ریلیوں کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک پولیس موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔