کرونا چین کی لیب میں بنایا گیا، امریکیوں نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کر دیا

کرونا چین کی لیب میں بنایا گیا، امریکیوں نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا پھیلاؤ کیسے ہوا اس پر امریکہ نے ایک بار پھر چین پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے

امریکی حساس اداروں اور قومی سلامتی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا مارکیٹ کی بجائے چین کی لیبارٹری سے شروع ہوئی، اس حوالہ سے کئی لوگ واقف ہیں لیک قبل از وقت کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا.

کرونا وائرس کیسے پھیلا اس پر تحقیقات جاری ہیں کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں لاکھوں اموات ہو چکی ہیں، امریکا سب سے زیادہ متاثر ہے،امریکی حساس ادارے اور قومی سلامتی کے عہدیدار مسلسل اس بات کو دیکھ رہے کہ کرونا وائرس کیسے پھیلا، انہوں نے چین کی لیبارٹری میں وائرس کی تیاری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وائرس چین کی ووہان مارکیٹ سے نہیں بلکہ لیبارٹری سے پھیلا.

امریکی صدر کے حامی بھی اس بات کو آگے بڑھا رہے ہیں، کچھ ری پبلکن بھی یہی بات کہہ رہے ہیں، امریکی انٹیلی جینس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس چین کی ایک لیبارٹری میں پیدا ہوا تھا اور اسے اتفاقی طور پر پھیلا دیا گیا

خبر رساں ادارے سی این این کے دوسرے ذرائع نے امریکی عہدیداروں کے اس نظریہ کی تصدیق نہیں کی تا ہم وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں کتنی صداقت ہے، اگر لیبارٹری میں کرونا تیار ہوا تو اس نے سب سے پہلے چین کو ہی کیوں متاثر کیا،

دوسری جانب امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ کرونا وائرس کو چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ امریکی فوج کے سربراہ نے کہا کرونا وائرس کو چین کی تجربہ گاہ میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر نہیں بنایا گیا، میڈیا پر اور سوشل میڈیا میں اس حوالے سے افواہیں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔قیاس آرائیوں کا جنرل انٹیلی جنس حکام نے جائزہ لیا جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچے مگر ٹھوس شواہد وائرس کے قدرتی ہونیکی جانب اشارہ کرتے ہیں، شواہد سے پتہ چلتا ہے۔وائرس قدرتی طور پر ہی ماحول میں موجود تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو چینی وائرس کانام دیا تھا جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسے ووہان وائرس کا نام دیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکہ کرونا کے پھیلاؤ کے حوالہ سے جائزہ لے رہا ہے مگر انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا، دوسری جانب چینی حکومت نے کرونا وائرس کی لیبارٹری میں تیاری کی تردید کی ہے، کئی ماہرین نے بھی اس امریکی نظریئے پر شکوک کا اظہار کیا ہے،

وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ چین سے جس طرح کرونا وائرس پھیلا انٹلیجنس تفتیش کار عزم کرچکے ہیں کہ اس کی ابتدا کیسے ہوئی اس کی ایک مکمل اور جامع رپورٹ تیار کریں گے.

بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 2018 سے محکمہ خارجہ کی کیبلز کے بارے میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی بائیو لیب کی حفاظت اور انتظامیہ کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے امریکیوں کو لیب میں اس وقت تک رسائی نہیں دی جب ہمیں ابتدائی وقت میں اسکا جائزہ لینا تھا،ہم جانتے ہیں کہ وائرس کی ابتدا خود ووہان میں ہوئی تھی۔ لہذا یہ ساری چیزیں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔ ابھی بھی بہت کچھ ہے جو ہم نہیں جانتے ہیں ،

کچھ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ کرونا وائرس چائنہ کی ہی ایک لیب میں بنایا گیا ہے جس کا مقصد چائنہ کی اس میدان میں امریکہ پر برتری شو کرنا تھا،

کرونا وائرس انسان تک چمگادڑ سے نہیں بلکہ کس جانور سے پہنچا؟ نئی تحقیق آ گئی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.