سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں سائفر کاپی اس وقت کے وزیراعظم کے حوالے کی گئی بلکہ کاپی اعظم خان کے حوالے کی گئی تھی ' عمران خان کے وکیل سلمان صفدر
0
175
imran

اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی اور پارٹی قیادت کمرہ عدالت موجود تھی.بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر اعظم خان کی کسٹڈی میں تھا ، اعظم خان نے سائفر وصول کیا ، کہا گیا ہے پرنسپل سیکرٹری کو جاری کی گئی سائفر کاپی واپس نہیں آئی ،سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،اعظم کی خان کی بنیادی ڈیوٹی تھی کہ وہ کاپی کی حفاظت کرتے ،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں سائفر کاپی اس وقت کے وزیراعظم کے حوالے کی گئی بلکہ کاپی اعظم خان کے حوالے کی گئی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آفیشل موؤمنٹ میں اعظم خان کو ملی چیز، وزیر اعظم کی ذمہ داری سمجھی جائے گی یا نہیں ، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے اگر وصول کی تھی تو واپس کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی تھی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان نے کاپی آپ کو دی ؟ آپ کی پوزیشن کیا ہے ؟ سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر دیا گیا یا نہیں ؟ وزیر اعظم نے لیا یا نہیں ؟ یہ پراسیکوشن کے ثبوت میں نہیں آیا ، میرے پوزیشن یہ ہے کہ سائفر کاپی وزیر اعظم آفس سے گم ہو گئی یہی بات اعظم خان نے کی ،جب سائفر کاپی نہیں ملتی تو وزرات خارجہ کو آگاہ کیا جاتا ہے ، سرکار کے اپنے 4 گواہ ہیں جو کہتے ہیں کہ سائفر کی کاپی اعظم خان کو دی گئی،جب سائفر کاپی وزیراعظم کو سپرد ہوئی ہی نہیں تو جس کے سُپرد ہوئی اس کو آپ نے گواہ بنا دیا تو آپ بھگتیں،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزیراعظم یا اس طرح کی پوزیشن پر کوئی ڈاکومنٹ سیکرٹری کی پوزیشن میں ہو تو کیا ہو گا ؟اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کاپی وزیراعظم کو دے دی تھی واپس نہیں آئی ، اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ 9 مارچ کو سائفر کاپی وزیر اعظم کو ڈیلیور ہوئی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ آج تک یہی پوزیشن رہی ہے یہ کہتے رہے ہیں آپ یہ کتاب نہیں دیکھ سکتے ، میکانزم کے مطابق اگر سائفر گم ہو جائے وزارتِ خارجہ کو رپورٹ کرنا ضروری ہے جو 28 مارچ کو ہوا ، میکانزم کے مطابق محکمانہ انکوائری وزارت خارجہ کے اعلی افسران نے کرنی ہے جو نہیں ہوئی ، وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی ریمائنڈر نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا،28 مارچ کو وزارت خارجہ کو وزیراعظم آفس نے بتا دیا تھا ، وزارت خارجہ نے فوری آئی بی کو مطلع کرنا تھا جو نہیں کیا گیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ عمران خان کا کیس کیا ہے کہ اعظم خان نے سائفر دیا نہیں یا انہوں نے اپنے پاس نہیں رکھا؟ ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ آپکی اس معاملے پر پوزیشن کیا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے سائفر لے کر پڑھا لیکن واپس یا گُم کرنے سے متعلق شہادت میں کچھ نہیں آیا، عدالت نے استفسار کیا کہ ہم یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ اس متعلق آپکا موقف کیا ہے، اعظم خان تو اپنے بیان میں کہتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر کاپی گُم ہوئی،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ سائفر کاپی وزیراعظم آفس کی جانب سے گُم ہوئی اور اس متعلق وزارتِ خارجہ کو آگاہ کر دیا گیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر سائفر کاپی جان بوجھ کر اور کوتاہی سے گُم کرنے کے دونوں چارج ایک وقت میں نہیں ہو سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہاں، اِن دونوں میں سے ایک ہی چارج ہونا چاہیے تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کیس کے چارج کو دیکھا جائے تو اعظم خان کو کیوں ملزم نہیں بنایا ، سلمان صفدر نے کہا کہ یہی تو میرا کیس ہے یہاں ملزم کو ہی گواہ بنا دیا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اگر سائفر کی دستاویزات گم ہوجائے تو اس کے لیے دفتر خارجہ کا میکنزم موجود ہے کہ وہ آئی بی وغیرہ سے انکوائری کروائیں ،لیکن اگر دستاویزات گم بھی ہو جائے تو یہ ایک مجرمانہ غفلت نہیں

سائفر کیس، سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کل تک ملتوی،پراسیکیوشن کو تین چار دینے کی استدعا مسترد
سائفر کیس،عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے،پراسیکیویشن نے تیاری کے لیے تین چار دن مانگ لیے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم سزا معطل کر دیتے ہیں ،پھر آپ ایک ماہ لے لیں،تین چار دن دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی، عدالت نے کل سے دلائل دینے کا حکم دے دیا،سائفر کیس کی سماعت کل دوبارہ ہو گی،

سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

Leave a reply