fbpx

کرونا بحران میں امداد کی پیشکش،کیا بھارت پاکستان اور چین سے امداد لے گا؟ پتہ چل گیا

کرونا بحران میں امداد کی پیشکش،کیا بھارت پاکستان اور چین سے امداد لے گا؟ پتہ چل گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، لاکھوں مریض اور ہزاروں اموات روز ہو رہی ہیں، بھارت میں آکسیجن کی کمی ہو چکی ہے، ہسپتال بھر چکے ہیں، شمشان گھاٹ کم پڑ چکے ہیں، سڑکوں پر لوگ مر رہے ہیں ایسے میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی بھارت کو مدد اور تعاون کی پیشکش کی تھی تا ہم اطلاعات کے مطابق بھارت پاکستان اور پاکستان کے دوست ملک چین دونوں کی پیشکش قبول نہیں کر رہا

کرونا بحران میں دنیا کے کئی ممالک سے ملنے والی امداد پر بھارت نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے تا ہم چین اور پاکستان کی جانب سے تعاون پر بھارت نے کوئی بھی ردعمل ظاہر نہیں کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان اور چین سے امداد نہیں لینا چاہتا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کرونا بحران سے نکلنے کے لئے دو طرح کی امداد لے رہا ہے، آکسیجن اور کرونا سے بچاؤ کے ٹیکے اور ادویات،بھارت بیرون ممالک سے یہ چیزیں خریدنے پر بھی غور کر رہا ہے ساتھ ہی بھارت ان ممالک سے امداد قبول کرنے کا سوچ رہا ہے جس کے ساتھ بھارت کا اشتراک ہے جیسے امریکہ، روس، فرانس، یو اے ای و دیگر ممالک،ان ممالک کے علاوہ باقی بھی کچھ ممالک سے بھارت امداد لے سکتا ہے تا ہم پاکستان اور چین کا نام زیر غور نہیں ہے

چین اور پاکستان کی جانب سے تعاون کے حوالہ سے سوال پر بھارتی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے بازار سے سامان کی خریداری کے حوالے سے بھارت کو مسئلہ نہیں ہے۔ آکسیجن پروڈکشن سے متعلق آلہ جات کی خریداری کے بارے میں قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ جہاں تک چین کی حکومت کی جانب سے بھارت کی حکومت کو تعاون کی پیشکش کا سوال ہے تو اس بارے میں ہمارا کوئی رد عمل نہیں ہے۔ اسی طرح سے پاکستان سے ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے امداد کی کوئی بات کی گئی ہے،ایدھی فاؤنڈیشن غیر سرکاری تنظیم ہے اسکی جانب سے کی جانے والی امداد میں حکومت کا کوئی خاص کردار نہیں ہوتا اس لئے ضرورت پڑنے پر ایدھی فاؤنڈیشن سے مدد لی جا سکتی ہے تا ہم حکومت پاکستان کی جانب سے مدد کی تجاویز پر حکومت کچھ نہیں کہنا چاہتی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت چین اور پاکستان کی جانب سے امداد کی پیشکش کو قبول نہیں کرنا چاہتا، اسی لئے بھارت نے ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے ، حالانکہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو مدد کی پیشکش کو ایک ہفتہ ہونے کے قریب ہے، اسی لئے بھارت کی جانب سے تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا

دہلی میں بھی کرونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن دہلی میں طبی سہولیات پوری نہیں ہیں،ہسپتال بھر چکے ہیں، کرونا مریض سڑکوں پر ہیں، کوئی ہسپتال لینے کو تیار نہیں،لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے شمشان گھاٹ میں جگہ نہیں مل رہی، شہریوں نے لاشوں کو گھروں میں رکھ دیا ہے ۔دہلی میں آکسیجن کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہےاور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال مودی سرکار اور صنعتکاروں سے مدد کی درخواست کر چکےہیں ۔

گزشتہ ہفتے بھارت میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا 11 سے 15 مئی کے درمیان عروج پر پہنچ سکتی ہے اور فعال کیسز کی تعداد 35 لاکھ تک جا سکتی ہے، مئی کے اواخر تک اس کی شدت میں کمی واقع ہوگی۔

کرونا ویکسین کا راز ہیکرز کی جانب سے چوری کرنے کی کوشش ناکام

کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

پاکستان میں کرونا ویکسین کہاں تک پہنچ گئی، مبشر لقمان کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اکرم کے تہلکہ خیز انکشافات

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

دہلی میں ہیلتھ ورکر کرونا کا شکار ہوئی تو بیڈ ملا نہ شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کیلئے جگہ

بھارت میں کرونا بحران کا مودی ذمہ دار،عالمی میڈیا بھی برس پڑا

بھارت میں کرونا سے سڑکوں پر اموات، پاکستان نے بھی بڑا اعلان کر دیا

بھارت میں کرونا کیسز ، بھارتی سائنسدانوں نے ہی بھارتی قوم کو ڈرانا شروع کر دیا

کرونا کیسز، بھارت میں نیا ریکارڈ بن گیا،شمشان گھاٹ میں طویل قطاریں

کرونا کیسز، بھارت دنیا میں نمبر ون، سب سے زیادہ مریضوں کا ایک اور ریکارڈ بنا لیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.