fbpx

کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں رواں برس مختلف مقامات سے 7 ہزار636 مقامات پر لاروا پایا گیا-

باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق لاہورمیں ڈینگی کے 17ہزار84 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی تعداد17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں برس ایک ہزار195 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں رواں سال اب تک 17 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے-

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق لاہورمیں ڈینگی وائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئےہیں-

ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے

اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر:

پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

کیا ڈینگی کے مریضوں میں کووڈ کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا سامنا کرنے والے افراد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر کووڈ کی علامات ابھرنے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو بائیومیڈیکل سائنس انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں برازیل کے ایمیزون خطے کے ایک قصبے کے 1285 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان میں کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایک طرف کووڈ 19 کے نتیجے میں ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وہی دوسری جانب ڈینگی سے کووڈ کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

کرونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ، ایک اور نیا مریض سامنے آ گیا

یہ تحقیقی ٹیم عرصے سے اس خطے میں ملیریا کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے اور 2018 میں انہوں نے ہر ماہ بعد قصبے کی آبادی کے سروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کا رخ کووڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ستمبر 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے علاقے جہاں ڈینگی کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہوچکے ہیں وہاں کووڈ 19 سے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم اس خطے کے رہائشیوں کے خون کے نمونے کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر سے پہلے اور بعد میں اکٹھے کرچکے تھے، تو ہم نے ان کو اس خیال کی جانچ پڑتال کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس کا سامنا کرنے والے افراد کو کسی حد تک کووڈ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر نتائج اس سے بالکل متضاد رہے۔

تحقیق میں جن خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا وہ نومبر 2019 اور نومبر 2020 میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان میں موجود اینٹی باڈیز کو ڈینگی تمام اقسام اور کورونا وائرس کے خلاف آزمایا گیا تاہم نتائج سے ثابت ہوا کہ 37 فیصد افراد نومبر 2019 سے قبل ڈینگی جبکہ 35 فیصد افراد نومبر 2020 سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے تھے۔

محققین کے مطابق ہم نے شماریاتی تجزیے سے نتیجہ نکالا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے سے کووڈ سے بیمار ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

ان کہنا تھا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے، ان میں کورونا سے متاثر ہونے پر علامات ابھرنے کا امکان دیگر سے زیادہ ہوتا ہے-

ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.