کورونا وبا کے خطرات کے پیش نظر پیمرا کی تمام ٹی وی چینلز کو رمضان نشریات کے حوالے سے احکامات جاری

پیمرا نے کورونا وائرس کے پیش نظر ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رمضان نشریات کے لیے خصوصی ہدایات جاری کردیں

باغی ٹی وی : کورونا وبا کے خطرات کے پیش نظر پیمرا کی تمام ٹی وی چینلز کو رمضان نشریات کے حوالے سے احکامات جاری کر دیئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیمرا کے ہینڈلر اکاؤنٹ پر پیمرا کے احکامات کے چند نوٹس شئیر کئے جس میں پیمرا نے کورونا وائرس کے پیش نظر ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رمضان نشریات کے لیے خصوصی ہدایات جاری کردیں پیمرا نے اپنے جاری کیں نوٹس میں کہا کہ رمضان کے بابرکت اور رحمتوں والے مہینے میں تمام مسلمان اکٹھے ہو کر عبادات کرتے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں


پیمرا نے اپنے نوٹیفیکشن ممیں کہا کہ تمام پیمرا لائسنس ہولڈر جانتے ہیں کہ پوری دنیا کو اس وقت تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے جہاں ہر قوم مل کر اور انفرادی طور پر اس وبائی مرض کووڈ 19 سے مقابلہ کر رہی ہے پاکستان بھی اس میں شامل ہے چونکہ عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے ماہرین سماجی فاصلے کی تجویز دی ہے اس لیے پیمرا کے تمام لائسنس یافتگان کو گزشتہ برس کی رمضان نشریات کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے

پیمرا نے کہا کہ سحر اور افطار کے وقت حاظرین پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے بلکی گھروں میں بیٹھ کر لائیو پروگرام دیکھیں گے کیونکہ ہجوم اس وبا کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتا ہے لہذا پروگرام ٹائم بس میزبان اور چینل کی ٹیم کے چند ممبران ہی موجود ہوں

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ تمام ٹی وی چینلز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سماجی فاصلے اور قرنطینہ کے حوالےسے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں

رمضان ٹرانسمیشن میں اگر ایک سے زائد افراد نشریات کی میزبانی کررہے ہیں تو دونوں کے درمیان فاصلہ ایک میٹر سے کم نہیں ہونا چاہیئے

پروگرام میں نشریات کے دوران سیٹ پر صرف ایک مہمان ہونا چاہیئے

وبا کے باعث دنیا کو بھوک، غربت، وسائل کی کمی اور بے روزگاری کا سامنا ہے اس لیے تحائف، موٹر بائیکس، کاروں یا ٹی وی وغیرہ کی نمائش نہ کی جائے کیوںکہ اس کے منفی سماجی اثرات مرتب ہوں گے

نعت کوئز یا تقریری مقابلے وغیرہ کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے مثلاً ویڈیو لنک وغیرہ

چونکہ حکومت پاکستان کی جانب سے اجتماعات پر پابندی ہے اس لیے وائرس سے تحفظ کے لیے شہر رمضان یا بڑے سیٹس نہ لگائے جائیں

رمضان نشریات پروگرام کے سیٹ سے منسلک متعلقہ عملے کو مناسب حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں تاکہ وہ کورونا وائرس سے خوس کو محفوظ رکھ سکیں اور اس وبا کے پھئلاؤ کی وجہ نہ بن سکیں

آن اسکرین یا آف اسکرین دو افراد کے درمیان کم از کم فاصلہ ایک میٹر سے زائد ہونا چاہیئے

نشریات کے لیے اسٹوڈیو میں استعمال ہونے والےآلات اور گیجٹس کو باقاعدگی کے ساتھ سٹرلائز کیا جائے

اسٹوڈیوز کے اندر اور داخلی مقامات پر ہینڈ سینیٹائزر اور ہاتھ دھونے کی سہولت بھی فراہم کی جائے

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز پر عمل کیا جائے اس کے برعکس ان نوٹیفیکیشنزکی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

اسٹوڈیو کے مین گیٹ پر جراثیم کش واک تھرو گیٹ کا انتظام کیا جائے

نماز تراویح کے لیے وفاقی حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کیا جائے

اس کے ساتھ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو اپنے نوٹیفیکشن مین دئے گئے یہ بھی ہدایت کی کہ کوئی بھی ایسا مواد پروگرامز اور رمضان ٹرانسمیشن میں نہ نشر کیا جائے جو اسلام یا پاکستان کے نظریے کے خلاف ہو

حکومت سرکاری سطح پر اجتماعی استغفار و توبہ کا پروگرام ترتیب دے،متحدہ علماء محاذ

حج ہوگا یا نہیں فیصلے کا وقت بتا دیا گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.