fbpx

کورونا کے بعد بھارت میں ایک اور وائرس سر اٹھانے لگا،بچوں سمیت 89 کیسز رپورٹ

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں 17 بچوں سمیت 89 افراد میں زکا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق زکا وائرس دیگر بھارتی ریاستوں میں رپورٹ ہو چکا ہے، لیکن اتر پردیش میں یہ پہلی بار اس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس ریاست میں زکا وائرس کا پہلا کیس 23 اکتوبر کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد محکمہ صحت کے افسران کو گھر گھر جا کر سرویلنس اور ٹیسٹنگ کے لیے نمونے لینے کو کہا گیا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اہم تشویش حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کے لیے ہے جو ‘مائیکرو سیفلی’ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ مکمل نشو نما نہیں پا سکتا اور نا مکمل رہ جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بیماری کی علامات سنگین نہیں ہیں یہ بظاہر عام نزلہ زکام کی طرح لگتا ہے زِکا نامی یہ وائرس ايڈيز جیپٹی مچھر کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے اس مچھر کی وجہ سے ڈینگی بخار اور چکنگنیا نامی بیماری بھی پھیلتی ہے اس بیماری کے سنگین نتائج میں مفلوج ہونا بھی ہے۔

بی بی سی کے مطابق ذکا وائرس افریقہ سے شروع ہوا تھا اور اس کے پھیلنے کی خبر پہلی مرتبہ مئی 2015 میں برازیل سے آئی تھی۔

زکا وائرس کیا ہے؟

فروری 2016 میں ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صحت ایمرجنسی کے طور پر زکا وائرس کی تصدیق کردی تھی اس وائرس کا ہندوستان نے راجستھان میں اپنا پہلا کیس رپورٹ کیا جہاں 2017 میں 63 حاملہ خواتین میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی تھی۔

زکا وائرس کی بیماری بنیادی طور پر ایڈیس مچھر کے ذریعہ پھیلتی ہے جو دن کی روشنی میں لڑتا ہے۔ ایڈیس مچھر وہی ہیں جو ڈینگی ، چکنگونیا اور پیلا بخار پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک مچھر سے پھیلنے والا وائرس ہے جس کی شناخت یوگنڈا میں 1947 میں بندروں اور بعد میں 1952 میں انسانوں میں ہوئی تھی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ، زکا وائرس پہلی دفعہ 2007 میں جزیرہ یاپ میں پایا گیا تھا اس کے بعد 2013 میں فرانسیسی پولینیشیا آیا تھا۔ اور برازیل 2015 میں۔

علامات:
انکیوبیشن پیریڈ (نمائش اور پہلی علامات کے درمیان وقت) عام طور پر 3-14 دن کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ زکا وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر افراد میں علامات پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ یہ وہ اہم علامات ہیں جو لوگوں میں پائی گئیں ہیں اور عام طور پر یہ 2-7 دن تک رہتی ہیں۔ ہلکے سے تیز بخار، جلدی آشوب چشم، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، سر درد، مالائیس متلی اور قے۔

تشخیص:
عام طور پر افراد کی طرف سے تیار کردہ علامات سے اس کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ تاہم ، اس کی تصدیق صرف خون یا جسم کے دیگر رطوبات جیسے پیشاب یا منی کے لیبارٹری ٹیسٹ کرانے سے کی جاسکتی ہے-

زکا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہونا انتہائی کم ہے لیکن اس کے سنگین خطرات ضرور لاحق ہوتے ہیں ان میں سب سے اہم پیدائشی نقائص ہیں اگر حمل کے دوراب عورت اس کا شکار ہو جائے تو پیدا ہونے والے بچوں میں نقائص ہو سکتے ہیں ان میں بچے کا سر غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا اور دماغی خامیاں شامل ہیں سر کے چھوٹا ہونے کی وجہ رحم میں دماغی ٹشوز کی نشونما میں کمی یا ان کی بربادی ہوتی ہے اس سےبچے کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر پڑتا ہے اسے سننے دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے-

ضروری نہیں کہ زکا وائرس کی شکار ماں کے ہاں چھوٹے سر والے بچے پیدا ہوں اس وائرس کی شکار ماوں کا حمل گرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے زکا وائرس کی۔شکار ماوں کے ہاں ایسے بچے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو بظاہر صحت مند نظر آئیں لیکن آئندہ سالوں میں انہیں ذہنی نشوونما سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے زکا وائرس سے مردوں کی تولیدی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے شواہد ملے ہیں زکا وائرس سے "گولین بارے سنڈروم” ہوتا ہے اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام اعصابی خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے عضویاتی کمزوری ہوتی ہے اور بعض اوقات جسم حرکت کرنے سے معذور ہو جاتا ہے

زکا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
بنیادی طور پر ، زکا وائرس ایڈیس مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو عام طور پر دن میں ہوتا ہے۔ تاہم ، اسے ماں سے جنین میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے ، کسی متاثرہ شخص سے غیر محفوظ جنسی رابطہ ، خون کی منتقلی اور اعضا کی پیوند کاری بھی اسے پھیلا سکتی ہے۔

زکا وائرس سے متاثرہ شخص کا علاج کس طرح ہوتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس وائرس یا اس سے وابستہ / متعلقہ بیماریوں کے لئے کوئی علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ تاہم ، جن لوگوں کو بخار ، متلی جیسی ہلکی علامات پیدا ہوتی ہیں ان کو کافی مقدار میں آرام کرنے اور درد اور بخار کا علاج عام دوائیوں سے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی حالت بگڑتی ہے تو پھر اس کو فوری طور پر طبی مشورے اور نگہداشت کی طرف جانا چاہیے۔

آپ اپنے آپ کو اس وائرس سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

اپنے آپ کو بچانے کا سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں مکھیوں اور مچھروں کے داخل ہونے سے بچنے کے لئے اپنی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کو مچھروں کے جالوں کے نیچے سونا چاہئے تاکہ ان کو متاثرہ مچھروں سے بچایا جاسکے۔ پانی ذخیرہ کرنے والی جگہوں پرہیز کریں ، کیونکہ یہ مچھر ایسی جگہوں پہ پرورش پاتے ہیں۔ مزید برآں، متاثرہ علاقوں میں جانے والے مسافروں کو مناسب احتیاط برتنی چاہئے۔