fbpx

کورونا کی نئی لہر کا خدشہ، سندھ حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

کراچی : سندھ حکومت نے کورونا وائرس کی نئی لہر ’’ایمی کرون‘‘ کے پیش نظر صوبے بھر میں نئی پابندیاں عائد کردیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے افریقا سے پھیلنے والی سارس کووٹو کی نئی لہر ’’ایمی کرون‘‘ کے خدشے اور کورونا ویکسی نیشن مہم میں سست روی پر سی کیٹگری میں شامل اضلاع میں پابندیاں بڑھادی ہیں۔

محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردی حکم نامے کے تحت سی کیٹگری میں شامل اضلاع کے ہوٹلز میں 50 فیصد نشستیں خالی رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے اس طرح کراچی میں ان ڈور ڈائننگ کے لیے 30 فیصد نشستیں خالی رکھنے کی پابندی عائد کی گئی ہے ۔ اب کراچی میں ہوٹلز 70 فیصد سے زائد نشستوں پر گاہکوں کو نہیں بٹھا سکیں گے۔
کورونا ایس او پیز سے متعلق نئے حکم نامے کے تحت لاڑکانہ، میرپور خاص، حیدرآباد ڈویژن، خیرپور اور گھوٹکی میں 300 افراد سے زائد کے شادی بیاہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

سانگھڑ اور سکھر کے اضلاع اور کراچی ڈویژن میں 500 افراد کے ان ڈور اجتماعات کی اجازت دی گئی ہے۔ سیاحت، تفریح پارکس، سوئمنگ پولز اور فلائٹ میں سفر کورونا ویکسین سے مشروط ہوگا۔

محکمہ داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں سنیما ہالز میں ویکسی نیٹڈ افراد کے داخلے کی اجازت ہے، کاروباری مراکز رات 10 بجے تک کھلے رکھے جاسکتے ہیں جب کہ تمام تعلیمی ادارے بدستور کھلے رہیں گے۔ سندھ میں وبائی امراض ایکٹ کے تحت نئی پابندیاں 15 دسمبر تک نافذالعمل ہوں گی۔

دریں اثنا کہا گیا ہے کہ کراچی ڈویژن، سانگھڑ اور سکھر اضلاع میں ویکسی نیشن مہم بہتر ہے اس لیے انہیں بی کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے۔

حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع میں وبائی امراض ایکٹ کےتحت پابندیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ شہید بے نظیرآباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، گھوٹکی اضلاع بھی سی کیٹگری میں شامل ہیں۔

لااڑکانہ اور میرپور خاص ڈویژن میں بھی کورونا ویکسی نیشن مہم سست روی کا شکار ہے اس لیے انہیں بھی سی کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے