fbpx

کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے . تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

کرونا وائرس سے ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے اس کی ایک لہر پہلے والی لہر سے زیادہ خطرناک بن کر آتی ہے یے عالمی وبا ہر طرف سے انسان کی خوشبو انسان کی خوشبو کرتا ہوا آرہا ہے جیسے دنیا کے دورے پر نکلا ہوا ہو. دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی عوام سے ایس او پیز پر عمل کروا کر ویکسین لگوانے کا سلسلہ تیزی سے جاری رکھا ہے پر مسئلہ ہمارے جیسے غریب ممالک کو ہے جن کے پاس محدود وسائل ہونے کی وجہ سے اس موذی مرض پر ابھی تک قابو پانے سے قاصر ہیں. پاکستان میں اکثریت لوگوں کی اس وائرس کو صرف معمولی بخار سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے. جب کہ پاکستان میں کرونا کی صورتحال کافی پریشان کن ہے. پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کی 48 ہزار 816 ٹیسٹیں کی گئیں جن میں سے 2607 لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اس وائرس کا شکار ہوکر وفات پانے والوں کی تعداد 21 ہے.

کرونا کی خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس نے بھی پاکستان میں اپنے قدم رکھ دیئے ہیں پنجاب سمیت پورے ملک کے لوگوں کو اس خطرناک وائرس نے اپنی پکڑ میں لینا شروع کردیا ہے پنجاب میں اس وائرس کے 24 سے زائد مریض پائے گئے ہیں جن میں اکثر لوگوں کا تعلق لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے. پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ کے کچھ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن بھی لگا دیا ہے.

کرونا وائرس کے خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس بھی پاکستان میں تباہی مچانے کے لئے تیار ہے مگر حکومتی لوگ شاہی فرمان جاری کرنے کے علاوہ عملی طور پر کچھ خاص نہیں کر سکے صرف حکم نامے جاری کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ایس او پیز پر عمل کروانا بھی حکومت کی زمیداری ہے. صرف سکول, کالج بند کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا بازاروں میں جو عوام کا ہجوم ہے اس کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے.

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے جاری کردہ حکم ناموں پر سختی سے عمل کروائے لوگوں کو ماسک پہنائےسماجی فاصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا پابند بنائے اور لوگ بنا کسی الجھن کے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو کرونا وائرس سے بچنے کی ویکسین لگوانی چاہئے.

@Nadir0fficial