کرونا لاک ڈاؤن، امریکا میں بے روزگاری عروج پر،ڈھائی کروڑ سے زائد افراد نوکریوں سے محروم

کرونا لاک ڈاؤن، امریکا میں بے روزگاری عروج پر،ڈھائی کروڑ سے زائد افراد نوکریوں سے محروم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، امریکا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، امریکہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 51 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے،

امریکہ کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤں ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،امریکی محکمہ لیبر کے مطابق گزشتہ ہفتے مزید 44 لاکھ شہریوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لئے درخواستیں جمع کروائی ہیں، امریکا میں مجموعی طور پر کرونا لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگار ہونے والوں کی تعداد 2 کروڑ 65 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے

امریکی محکمہ لیبر کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے پانچ پفتے پہلے امریکہ میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر ہفتے لاکھوں افراد ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ اور چوتھے میں 52 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے تھے۔ امریکہ میں 2008 کے معاشی بحران کے بعد 10 سال میں روزگار کے دو کروڑ 28 لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اب چند ہفتوں میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد ان سے زیادہ ہوگئی ہے اور برسوں کی معاشی ترقی صفر ہو گئی ہے۔

امریکہ میں لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگاری کے حوالہ سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروزگار ہونے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ محکمہ محنت کے اعداد و شمار میں وہ لاکھوں لوگ شامل نہیں جو مختلف وجوہ سے بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں ہیں ہیں،امریکہ میں لاکھوں تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔

امریکہ میں آخری بار ایسی صورتحال 1930 کے عشرے کی کساد بازاری میں دیکھنے کو ملی تھی جب 25 فیصد امریکی روزگار سے محروم ہوگئے تھے۔معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت بیروزگاری کی شرح 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں مزید لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بندش کے نتیجے میں جو کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں فضائی کمپنیاں، ہوٹل اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری شامل ہے۔

اس وقت امریکہ کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی طرح کے لاک ڈاؤن کی پابند ہے، یعنی گھروں میں رہنے کی پابندی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بار، ریستوران، سینما گھر، فیکٹریاں، جم اور دیگر بہت سے کاروبار بند ہیں۔ چند ہوٹل بھی بند ہو گئے؛ جو کھلے ہیں وہ زیادہ تر خالی پڑے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.