fbpx

کرونا میں معاشی بحران مگر دنیا کے امیر تر،امیر ترین ہی رہے

کرونا میں معاشی بحران مگر دنیا کے امیر تر،امیر ترین ہی رہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی،

کرونا کی وجہ سے حکومتوں، ممالک کو لاک ڈاؤن لگانے پڑے،فضائی سروس معطل کرنا پڑی، بزنس سنٹرز، کارخانے ،تعلیمی ادارے بند ہو گئے، ممالک کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی، عام آدمی بھی کرونا سے متاثر ہوا تاہم دوسری جانب حیران کن طور پر دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کرونا میں کم ہونے کی بجائے بڑھی بلکہ دگنی ہو گئی ہے،خبر رساں ادارے کے مطابق کرونا کے گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کے 10 امیرترین افراد کی دولت ڈبل ہو گئی ہے.

دنیا میں غربت کے خاتمے کیلئے کام کرنی والی کنفیڈریشن اوکسفیم کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 تک امیر ترین افراد کی دولت 7 کھرب ڈالر سے بڑھ کر 15 کھرب ہوگئی ہے، ایلون مسک، جیف بیزوس سمیت دنیا کے دس امیر ترین آدمیوں کی دولت کرونا سے پہلے 700 ارب ڈالرز تھی اب 1500 ارب ڈالرز ہوگئی ہے .فوربز میگزین کے ارب پتیوں کی فہرست سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے پہلے 20 مہینوں میں ایلون مسک کی دولت میں 10 گنا اضافہ ہوا اور وہ 294 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

اس عرصے کے دوران جب وال سٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے ذخائر بڑھ رہے تھے ایمازون کے مالک جیف بیزوس کی دولت 67 فیصد بڑھ کر 203 بلین ڈالر ہو گئی فیس بک کے مارک زکربرگ کی دولت دگنی ہو کر 118 بلین ڈالر ہو گئی .مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی دولت 31 فیصد بڑھ کر 137 بلین ڈالر ہو گئی

اوکسفیم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران دوسری طرف دنیا بھر میں عدم مساوات کے باعث نہ صرف غربت بڑھی بلکہ ہر چار سیکنڈ میں ایک موت بھی واقع ہوئی اوکسفیم کے مطابق 2030 تک 3.3 ارب لوگ روزانہ 5 اعشاریہ 50 ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہوں گے ،رپورٹ کے مطابق جہاں دنیا میں 99 فیصد لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی وہاں ان 10 افراد کی آمدنی میں ایک دن میں 1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا،کرونا کی وجہ سے 16 کروڑ افراد غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں اور اس کا اثر خواتین پر اور مغرب میں غیر سفید فام نسلی اقلیتوں پر پڑا ہے

قبل ازیں غیر ملکی میڈیا کے مطابق ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی بلند سطح، آمدن اور اخراجات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اورکرونا وائرس کی نئی اقسام سے ترقی پذیرمعیشتوں کی بحالی کو خطرہ لاحق ہےعالمی بینک نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022 میں عالمی معیشت کی شرح نمو گذشتہ سال کے 5.5 فی صد سے واضح طور پرکم ہوکر 4.1 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2023 میں مزید کم ہو کر 3.2 فی صد رہ جائے گی کیونکہ تب حکومتیں وبا کے آغاز میں مہیا کی جانے والی بڑے پیمانے پرمالی امداد کو ختم کرچکی ہوں گی۔

قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی