عقائد کی بنیاد پر کورونا مریضوں کے الگ وارڈز کا انکشاف،دنیا کی سخت تنقید

نئی دہلی :عقائد کی بنیاد پر کورونا مریضوں کے الگ وارڈز کا انکشاف،دنیا کی سخت تنقید ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں مسلم مخالف سوچ اپنی انتہا کو پہنچتی نظر آرہی ہے جہاں ریاست گجرات کے احمد آباد سول ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں اور مشتبہ کیسز کو ان کے عقائد کی بنیاد پر الگ الگ وارڈز میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گنونت ایچ راٹھوڑ نے کہا کہ ریاستی حکومتی کے احکامات کے مطابق ہندو اور مسلمان مریضوں کے لیے الگ الگ وارڈز بنائے گئے ہیں۔ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایک ہزار 200 بستر مختص کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر گنونت ایچ راٹھوڑ نے کہا کہ عام طور پر مرد اور خواتین مریضوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وارڈز ہوتے ہیں، لیکن یہاں ہم نے ہندو اور مسلمان مریضوں کے لیے الگ الگ وارڈز بنائے ہیں۔مریضوں میں اس تفریق کی وجہ سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر گنونت راٹھوڑ نے کہا کہ ‘یہ ریاستی حکومت کا فیصلہ ہے اور آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔’

ہسپتال میں داخل ہونے کے پروٹوکول کے مطابق کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کو وائرس کے مصدقہ مریض سے اس وقت تک الگ وارڈ میں رکھا جاتا ہے جب تک اس کا ٹیسٹ کا نتیجہ نہ آجائے۔
ہسپتال میں داخل کورونا کے 186 مشتبہ مریضوں میں سے 150 میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ان 150 متاثرین میں سے 40 مسلمان ہیں۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ‘میں عقائد کی بنیاد پر وارڈز کے فیصلے سے واقف نہیں ہوں، عام طور پر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ وارڈز ہوتے ہیں، تاہم میں معاملے کی تحقیقات کروں گا۔’

احمد آباد کے کلیکٹر کے کے نرالا نے بھی معاملے کا علم ہونے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری طرف سے اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی اور نہ ہی ہمیں حکومت کے ایسے کسی فیصلے کا علم ہے۔’

رابطہ کرنے پر ایک مریض نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ‘اتوار کی رات ہسپتال کے پہلے وارڈ (اے فور) میں داخل 28 مرد مریضوں کے نام پکارے گئے اور پھر انہیں دوسرے وارڈ (سی فور) میں منتقل کردیا گیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہمیں دوسرے وارڈ کیوں منتقل کیا جارہا ہے جبکہ جن کے نام پکارے گئے ان سب کا تعلق ایک ہی برادری سے تھا۔’

ادھر امریکہ سمیت دنیا بھرکے کئی ممالک نے بھارت کے اس رویے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت ایک طرف انسانیت کا دشمن ہے تو دوسری طرف شدت پسندی اورتخریبی سوچ کا بھی حامل ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.