کرونا وائرس، جی 20 ممالک کا قرضوں کی وصولی موخر کرنے کا فیصلہ

کرونا وائرس، جی 20 ممالک کا قرضوں کی وصولی موخر کرنے کا فیصلہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی 20 ممالک نے غریب ملکوں سے قرضوں کی وصولی موخر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،

جی 20 کی جانب سے قرضوں‌کی وصولی موخر کرنے پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مشترکہ بیان سامنے آیا ہے۔عالمی مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے غریب ممالک کو کورونا سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔آئی ایم ایف کے ایم ڈی کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک اور دیگر ادارے غریب ملکوں کی مدد کے لیے 200 ارب ڈالر ریلیز کرنے پر کام کر رہے ہیں، غریب ممالک کورونا کے خلاف جتنا خرچ کر سکتے ہیں کر لیں لیکن اس کی رسید ضرور اپنے پاس رکھیں

پاکستان نے کہا ہے کہ جی 20 آئی ایم ایف سے قرض سے متعلق امداد حاصل کرنے کے لئے اقوام عالم میں شامل ہوجائے

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دوطرفہ قرضوں کی ادائیگیوں کی وصولی مئی سے شروع ہوگی اور سال کے آخر تک جاری رہے گی،

دوسری جانب آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے کورونا وبا اور لاک ڈاون کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہو گی،

عالمی بینک کی رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ رواں سال پاکستان کی شرح نمو منفی 1.3 فی صد رہنے کا خدشہ ہے، بجٹ خسارہ 8.7 سے 9.5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں ماہرین کہتے ہیں، زرعی شعبے پر توجہ مرکوز کر کے ملکی معیشیت کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس سال پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہے گی جبکہ ہدف 2.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ پاکستان میں آئندہ دو سال تک بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گا۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد اگر پاکستان کے لیے بیرونی قرضوں کی ادائیگی موخر کر دی جاتی ہے تو دباو کی شکار معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو بڑا ریلیف دے دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.