کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح دگنی، نئی تحقیق میں انکشاف،ممالک پریشان

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح دگنی، نئی تحقیق میں انکشاف،ممالک پریشان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے، سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہو چکی ہیں،کرونا سے بچاؤ کے لئے دنیا کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی تک ویکسین تیار نہیں ہو سکی، کرونا پر مختلف ممالک تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ وائرس ہے کیا اور اسکے پھیلنے کی شرح کیا ہے،اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے

نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں جو اندازہ تھا وہ اس اندازے کی بجائے دگنی رفتار سے پھیل رہا ہے، چین کے شہر ووہان جہاں سے کرونا پھیلا تھا وہاں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کا ایک مریض 2 سے 3 لوگوں‌کو متاثر کر سکتا ہے لیکن اب نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس پانچ سے سات لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے.

نئی تحقیق نیو میکسیکو کی لاس الاماس نیشنل لیبارٹریز نے کی ہے، اس لیبارٹری کے سائنسدانوں نے ووہان میں کرونا کے حوالہ سے جائزہ سروے کیا ، جس میں کہا گیا کہ ووہان سے پھیلنے والے وائرس کے ایک مریض نے اوسطا 6 لوگوں کو بیمار کیا،کرونا وائرس کو سامنے آئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک اسکا علاج یا ویکسین سامنے نہیں آ سکی

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ کہ نیو میکسیکو میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس سے 82 فیصد لوگوں نے لڑنے کی قوت مدافعت پیدا کر لی ہے، کرونا وائرس کے پھیلنے کی شرح جو پہلے بتائی گئی تھی وہ صحیح نہیں بلکہ یہ دگنی رفتار سے پھیل رہا ہے اور اس کا ثبوت متعدد ممالک میں ایک ایک روز میں ہزاروں مریضوں کا سامنے آنا ہے.

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا شخص کا جسم 4 دن میں کرونا کی علامات سامنے لے آتا ہے جبکہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ علامات چھ دن میں سامنے آتی ہیں، 18 جنوری سے قبل چین کے ہسپتال میں جتنے مریض داخل ہوئے تھے ان کے جسم میں علامات نظر آنے کی شرح 5 دن تھی لیکن اس کے بعد جتنے بھی مریض آئے ان میں کرونا کے علامات کی شرح اوسطا ایک سے ڈیڑھ دن ہو گئی

ایک سائنسی میگزین ‘نیچر’ میں شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر بین کاؤلنگ نے کہا ہے کہ چین کے لئے یہ وقت لاک ڈاؤن ختم کرنے اور کچھ آرام کرنے کا ہے تا ہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ کرونا وائرس کی ایک اور لہر آئے گی، اپریل کے آخر تک چین میں پھر کرونا وائرس بڑی تعداد میں پھیل چکا ہو گا،

بین کاؤلنگ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس چین کے صوبہ ہوبئی کے ووہان شہر سے نکل کر پورے چین اور پھر یورپی ممالک اور امریکہ تک پھیل گیا۔ جس کے بعد پوری دنیا میں فضائی آپریشن بند ہو گئے، ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دیں، متعدد ممالک نے لاک ڈاؤن کر دیا اور اب آدھی دنیا لاک ڈاؤن میں ہے یورپ میں کرونا وائرس کے علاج کا طریقہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تقریبا دو سال تک کورونا کے مریضوں کو باقی شہریوں سے الگ رکھنا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ دوسرے شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالیں گے

بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

بین کاؤلنگ نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ چین مین اب کئی شہروں میں لاک ڈاؤن ختم ہو گیا، ٹرانسپورٹ کا سسٹم معمول پر آ گیا، شہریوں کی آمدورفت شروع ہو گئی ہے، ایسے میں وہ لوگ جو کرونا سے معمولی متاثر ہیں یا جن کو ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کو کرونا ہو چکا ہے اور انہوں نے ٹیسٹ نہیں کروایا ، ایسے لوگ چین میں کرونا کو ایک بار پھر پھیلا سکتے ہیں، اس ضمن میں چین کو ابھی بھی احتیاط کی ضرورت ہے

چین نے کرونا کو دی شکست، ووہان میں 76 روز بعد لاک ڈاؤن ختم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.