fbpx

کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی تیسری خطرناک لہر پر تفصیلی اجلاس منعقد ، لائحہ عمل طے

ایبٹ آباد(حمداللہ خان سے)کمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان محسود نے منگل کے روز ہزارہ ڈویژن کے علماء کرام، سیاسی پارٹیوں کے مقامی رہنما، میڈیا, تاجر برادری، اپوزیشن، اقلیتی برادری کے نمائندوں اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے نمائندوں کے ساتھ کمشنر ہاؤس ایبٹ آباد میں کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی تیسری خطرناک لہر پر ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا۔ آل ٹریڈ فیڈریشن ایبٹ آباد کے صدر ثاقب خان جدون جنرل سیکرٹری خالد اسلم اعوان ،سینئر نائب صدر حاجی شہزاد گل اعوان ، ایم این اے پرنس محمد نواز خان، ایم این اے سجاد اعوان، ایم پی اے نزیر عباسی، ایم پی اے مومنہ باسط، ایم پی اے اورنگزیب نلوٹھہ، ڈی آئی جی ہزارہ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل ٹریڈ فیڈریشن کے صدر ثاقب خان جندون نے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر بہت زیادہ خطرناک ہے لہذا ہزارہ ڈویژن کے علماء کرام، سرکاری مشینری میڈیا اور زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد نے ہزارہ ڈویژن کے عوام میں شعور کی بیداری کا کام بھرپور طریقے سے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں ان کے شعور کی سطح بہت بلند ہے لہذا انہوں نے اس خطرناک بیماری کے خلاف متحد ہو کر اس سے اپنے آپ کو اور اپنی نئی نسل کو محفوظ کرنا ہے۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو کہا کہ آپ کو پورا معاشرہ سنتا اور فالو کرتا اس لیے آپ مساجد، عبادت گاہوں، بازاروں اور ٹرانسپورٹ میں کورونا وائرس کے بارے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کی تلقین کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہبی تہوار عید الفطر آ نے والی ہے اور اس موقع پر ہمارے لوگ بڑے جوش وجذبے سے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں۔ عید کی خریداری کے لیے ہجوم جمع ہونے سے اس خطرناک بیماری کے پھیلنے کے امکانات ہے لہذا تمام زمہ دار حلقے اور مقامی انتظامیہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اس بیماری نے تباہی مچادی ہے اور ہمارے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سے سبق لے اور حالات کو خراب ہونے سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔ انہوں نے کہ اپنی آل ٹریڈ کی کابینہ کے ساتھ انتظامیہ کے ساتھ وہ خود بھی بازاروں کا دورہ کرینگے اور مجموعی صورتحال پر ذاتی طور پر کڑی نظر رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.