fbpx

کورونا وائرس سے بچاؤ میں بھنگ بھی بہت مفید ،تحقیق

امریکی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچانے میں بھنگ بھی بہت مفید ہے-

باغی ٹی وی : ’جرنل آف نیچرل پروڈکٹس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی اور اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کےماہرین نےمشترکہ تحقیق میں بھنگ کے پودے میں دو ایسے قدرتی مرکبات دریافت کئے ہیں جو کووِیڈ 19 کی وجہ بننے والے ’سارس کوو 2‘ وائرس کو پھیلنے سے روکتے ہیں اوراس بیماری کی شدت میں اضافہ ہونےنہیں دیتے دریافت ہونے والے ان دونوں مرکبات کے نام ’’کینابیگیرولک ایسڈ‘‘ (سی بی جی-اے) اور ’’کینابیڈایولک ایسڈ‘‘ (سی بی ڈی-اے) رکھے گئے ہیں۔

سرخ آنکھوں اور جلد کی خارش بھی اومی کرون کی علامات ہیں ،امریکی طبی ماہرین

ان مرکبات کی سالماتی ساخت دیکھ کر ماہرین کو اندازہ ہوا کہ شاید یہ کورونا وائرس کے انسانی خلیوں سے جڑنے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں بعد ازاں اس کی تصدیق پیٹری ڈش میں رکھے گئے انسانی پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کے خلیات پر ان مرکبات کی آزمائش سے ہوئی جنہیں کورونا وائرس (سارس کوو 2) سے متاثر کیا گیا تھا۔

لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

سی بی جی-اے اور سی بی ڈی-اے، دونوں نے ہی کورونا وائرس کی سطح پر ابھار جیسی اس پروٹین کو جکڑ کر ناکارہ بنا دیا جسے استعمال کرتے ہوئے یہ وائرس خلیے کے اندر داخل ہوتا ہے اور اپنے حملے کی شدت میں اضافہ کرتا ہےتاہم ابھی یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لہذا اسے بنیاد بنا کر بھنگ کا استعمال شروع نہ کیا جائے۔

برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ…

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مزید تجربات اور تحقیق کے بعد یہ معلوم کریں گے کہ آیا یہ دونوں مرکبات جیتے جاگتے انسانوں کو بھی کورونا وائرس سے اتنے ہی مؤثر اندازمیں بچاسکتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے پیٹری ڈش میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا علاوہ ازیں، مزید تحقیق میں یہ مرکبات استعمال کرنے پر ظاہر ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس کا جائزہ بھی لیا جائے گا اس کے بعد ہی حتمی طور پر ان مرکبات کو کورونا کے علاج میں استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے گا۔

حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

کچھ وقت پہلےاس جنگلی پودے کو ہر لحاظ سے برُا سمجھا جاتا تھاکیوں کہ اس پودے کے پتے اور پھول کھانے سے انسان کوایک عجب قسم کا نشہ ہوجایاکرتا تھا، پہلے پہل اس کو جناتی پودا بھی قرار دیا گیا کیوں کہ اس پودے کا نشہ کرنے والوں نے اسے شراب اور افیون سے یک سر مختلف قرار دیا تھا۔

بغیر ویکسینیشن بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی، وزیر تعلیم پنجاب مُراد راس کا اعلان

اس پودے سے تیار نشہ آور مشروب کو پاکستان اور بھارتی پنجاب میں عمومی طور پر ’’ سردائی‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ بھارت کے دیگر علاقوں میں بھنگ لسی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ پودا برصغیر کی دریافت ہے۔اس لیے اس پودے کو ہندی بھنگ،ہندی سن،قنب ہندی،شاہدانہ اور گانجا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جب کہ مغرب میں اس کو ’’میری جوآنا‘‘ کہا جاتا ہے۔

کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے…

انگریز دوا ساز کمپنیوں کے ماہرین اس پودے کا نباتاتی نام Cannabis indica اور Cannabis sativa کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان میں سے کینے بس انڈیکا، برصغیر پاک و ہند کی مناسبت سے ہے اور کینے بس سیٹائیوا یورپ اور امریکا کی مناسبت سے ہے۔بھارت اور پاکستان میں تو اب بھی یہ مشروب ایک خاص طرح کا روایتی نشہ سمجھا جاتا ہے اور برصغیر کے بہت بڑے حصے میں تو یہ خیال بھی عام ہے کہ اس مشروب کے طبی فوائد بھی ہیں صدیوں سے بھنگ کے مادہ پودے کے پھولوں اور پتوں سے ایک خاص ترکیب کے ساتھ نشہ آور مشروب تیار کیا جاتا ہے-

جاپان نےکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دے دیا