کرونا وائرس، طبی عملے کوحفاظتی کٹس نہ دیں،حکومت نیا آرڈیننس لے کر آ گئی

کرونا وائرس، طبی عملے کوحفاظتی کٹس نہ دیں،حکومت نیا آرڈیننس لے کر آ گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، بھارت میں کرونا کا علاج کرنے میں مصروف طبی عملے پر حملوں کی شکایات بھی موصول ہوئی تھیں جس کے بعد مودی سرکار کو اب ہوش آ گیا ہے

مودی سرکار نے ایک آرڈیننس پاس کیا ہے جس کے مطابق طبی عملے پر حملہ کرنے یا انہیں پریشان کرنے کی صورت میں سخت کاروائی کی جائے گی، اگر کسی نے طبی عملے کو پریشان کیا تو اسے 3 ماہ سے سات برس تک کی سزا ہو سکتی ہے.

اس امر کا فیصلہ بھارتی کابینہ نے گزشتہ روز کیا، بھارتی وزیر صحت نے اس حوالہ سے کہا کہ اب طبی عملے کو تحفظ مل گیا ہے، ڈاکٹروں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے. بھارتی کابینہ نے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے تا ہم اس پر بھارتی صدر کے دستخط کے بعد آرڈیننس بھارت میں نافذ ہو جائے گا.

آرڈیننس کے مطابق اگر کسی نے ڈاکٹرز یا طبی عملے پر حملہ کیا تو اس کے خلاف 30 دن میں کاروائی مکمل ہو گی اور اسکی ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی، ملزمان پر 50 ہزار سے 3 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے.

بھارتی وزیر کے مطابق اگر کسی واقعہ میں ڈاکٹرز کو زیادہ نقصان ہوتا ہے تو ملزمان کے خلاف سزا بھی زیادہ ہو گی پھر سزا کی مدات 6 ماہ سے سات سال اور جرمانہ ایک لاکھ سے 5 لاکھ تک ہو گا،

واضح رہے کہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے جمعرات کو مودی سرکار کے خلاف بلیک ڈے منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ طبی عملہ کرونا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ایک طرف ہمیں حفاظتی کٹس نہیں دی گئں دوسری جانب شہری ہمیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، دونوں جانب ہی ڈاکٹروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے

بھارت میں کرونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار ہو رہے ہیں ایسے میں ایک خبر سامنے آئی ہے کہ جن ڈاکٹروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی ان کو جس ہوٹل میں قرنطائن کیا گیا تھا اس ہوٹل سے انہیں زبردستی نکال دیا گیا ہے

دنیا بھر میں کرونا کا علاج کرنے والے کو سلیوٹ پیش کیا جا رہا ہے لیکن بھارت میں ڈاکٹرز پر نہ صرف حملے کئے جا رہے ہیں بلکہ اسوقت ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں، مودی سرکار نے حفاطتی کٹس نہیں دیں، باہر جائیں تو عوام حملہ کر دیتے ہیں، قرنطینہ مرکز جائیں تو انہیں وہان سے بھی نکال دیا جاتا ہے

بھارت میں طبی عملے کے لئے کرونا سے بچاؤ کے لئے ایک طرف ڈاکڑز و پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس نہیں دی گئیں دوسری جانب ڈاکٹروں کو ہوٹلوں سے نکالا جا رہا ہے، ایسا ایک واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش میں سامنے آیا، جہاں ضلع سنبھل میں ایک ہوٹل میں قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے طبی عملے کے لئے پہلے مشکلات کھڑی کی گئیں پھر انہیں ہوٹل سے نکال دیا گیا

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں 15 اپریل کو ایک ہوٹل میں 3 ڈاکٹر اور 6 دیگر طبی اسٹاف کو ٹھہرایا گیا تھا۔ ہوٹل میں ٹھہرنے کے اگلے دن سے ہی ان کے ساتھ ہوٹل مالک نے زیادتیاں کرنا شروع کر دیں،جن کمروں میں ڈاکٹر ٹھہرے تھے ان کے کمروں کی صفائی نہیں کی گئی، پھر کمروں کے ٹی وی بند کر دئیے گئے۔ اسی پر بس نہیں ہفتہ کی رات کو تو انکے کمروں میں پانی ختم ہوجانے پر پانی بھی نہیں بھرا گیا۔ بعد میں ڈاکٹروں کو ہوٹل سے زبردستی نکال دیا گیا.

ڈاکٹروں کو ہوٹل سے نکالے جانے پر انہوں نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا مگر ان کی داد رسی نہیں ہوئی ، پولیس کو کاروائی کا حکم دیا گیا لیکن پولیس نے کاروائی کی بجائے تحقیقات کا آغاز کر دیا، بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ نے ڈاکٹروں کو ایک اور ہوٹل میں بھجوا دیا.

قبل ازیں اوکھلا کے مشہور ‘الشفاء اسپتال’ میں 10 طبی اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جن کو قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا، ان ڈاکٹرز سے جن کا رابطہ ہوا تھا انکے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے،اس ضمن میں الشفا نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے باقی عملے کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے،الشفا مین ایک الگ وارڈ بنا دیا گیا ہے جہاں کرونا کے مریضوں کو رکھا جائے گا ، ڈاکٹرز کے اہلخانہ کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے

کلکتہ میڈیکل کالج کے چار ڈاکٹروں میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے جس کے بعد انہیں قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا

کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

 

واضح رہے کہ بھارت میں 100 سے زائد طبی عملے میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے پر حملے بھی ہو چکے ہیں، کرونا کا علاج کرنے والے نرسوں کو کرونا نرس کہہ کر پکارا جاتا ہے.

مراد آباد میں ایک ڈاکٹر پر اسوقت حملہ کر دیا گیا جب وہ کرونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کے لئے ایک علاقے میں گیا وہاں بھارتی ہندوؤں نے اکٹھے ہو کر اس پر حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا، بھارتی ڈاکٹر پر حملے کے بعد بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم نے احتجاج بھی کیا مگر اسکے باوجود ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم نہ کیا جا سکا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.