کیا خطرہ ٹل چکا،50 کروڑ سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرات ہیں ، مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

لاہور:کیا خطرہ ٹل چکا،50 کروڑ سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرات ہیں ، مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے سنیرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان نے دنیا کی تازہ ترین صورت حال پر تازہ ترین اعدادوشمار کے ساتھ حالات پر سے پردہ اٹھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں سماج اور معیشت دونوں کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ وبائی بحران اس وقت انسانیت کے لیے ایک ایسی کٹھن آزمائش ہے جس پر قابو پانا ناگزیر ہو چکا ہے اور مزید تاخیر کی صورت میں بھیانک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ وباء سے دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وبا کے منفی اثرات سب سے زیادہ غریب ملکوں پر محسوس ہوں گے۔ساتھ ہی وباء سے دنیا بھر میں بھوک میں دگنے اضافے کا خدشہ ہے ۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نےکہا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایسے افراد جو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار ہیں ان کے لیے موجودہ صورتحال تباہ کن ثابت ہوگی۔اس وقت عالمی سطح پر خوراک کی کمی یا عدم دستیابی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دوگنی ہوکر تقریباً ساڑھے 26 کروڑ ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 1 لاکھ 77 ہزار سے زائد ہو گئیں ہیں ۔وباء نے مختلف ممالک اور خطوں کو سنگین طور پر متاثر کیا ہے اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ مغربی ممالک میں نظام کی کمزوری اور آپسی سیاسی اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نےکہتے ہیں‌کہ مستقبل میں یورپی یونین کی اتحاد و یکجہتی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔یورپی ممالک اب تک وبا کے سامنے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے سے قاصر ہیں اور نہ ہی انسداد وبا سے متعلق ایک دوسرے کی امداد و تعاون دیکھنے میں آیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ صرف اپنے شہریوں کا تحفظ ہی ہر ملک کی اولین ترجیح ہے۔ امریکہ میں ہلاکتوں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید محاز آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ وباء سےجانی و مالی نقصان کے ساتھ سیاسی رنجشیں بھی بڑھنے لگیں۔ امریکا اور چین کی جانب سے الزام تراشیوں کے بعد ایک امریکی ریاست چین کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی ہے ۔ ریاست میسوری نے چین اور اس کی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ چینی حکومت نے وباء سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی جس کی وجہ سے ریاست میسوری کی معیشت کو 10 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ قانونی ماہرین گومگو کیفیت کا شکار ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا ایک ریاست کس طرح کسی ملک کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور یہ کس حد تک کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اور اس مقدمے پر سماعت کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟

انہوں نے دنیا میں وائرس کی وجہ سے زندگیوں کو خطرات کے پیش نظر عالمی ادارے کی رپورٹ کا بھی ذکرکیا ، وہ کہتے ہیں‌کہ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ وباء کے لیبارٹری میں تیار ہونے کے شواہد نہیں ملے ۔ اور اس بات کہ امکانات زیادہ ہیں کہ وائرس کا آغاز جانوروں سے ہوا۔ تاہم یہ علم نہیں کہ یہ کس جانور سے انسان میں کیسے منتقل ہوا۔

 

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ امریکہ نے خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم ہونے کے بعد صدر ڈونلڈٹرمپ نے عندیہ دے دیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے تیل درآمدات روکنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنےاسٹرٹیجک ذخائرمیں75ملین بیرل تیل کا اضافہ کردیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کا مزید فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی آئل مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ منفی زون میں چلی گئی ہے۔بلومبرگ کے مطابق انیس سو چھیالیس کے بعد سے یہ ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔ ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں مستقل رہائش کے خواہشمندوں کو گرین کارڈز کے اجرا پر پابندی کااعلان کردیا ہے۔

اس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت رکھنے والے ملک امریکہ میں بے روزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور عوام لاک ڈاؤن کے باوجود حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جب سے وباء پھوٹی ہے امریکا میں دوکروڑ سے زیادہ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

امریکی میڈیا ادارے مسلسل صدر ٹرمپ کے زیرعتاب ہیں جبکہ امریکی صدر نے چین کے ساتھ ساتھ اپنی توپوں کا رخ ڈبلیو ایچ او کی جانب کر دیا ہے اور عالمی ادارے کی امداد بھی معطل کر دی ہے۔ امریکی میڈیا ملک میں وباء کے تیز رفتار پھیلاو کو صدر ٹرمپ کی بدترین ناکامی اور ٹرمپ انتظامیہ کی نااہلی قرار دے رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ ترقی پزیر ممالک میں بھی وبا کے باعث قیادتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور متفقہ موقف اپنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ وبائی صورتحال نے عالمگیر سطح پر صحت عامہ اور سلامتی سے متعلق نظام کو بری طرح بے نقاب کیا ہے اور موجود نقائص اور شدید خامیاں کھل کر سامنے آئی ہیں۔

عالمگیر وبا کے سدباب کے لیے اگر چند اقدامات بارے بات کی جائے تو اس وقت عالمی سطح پر "لاک ڈاون” کے خاتمے یا نرمی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے خیال میں نرمی کا فوری فیصلہ مناسب نہیں ہے۔ اس حوالے سے چین کا شہر ووہان لاک ڈاون کا ایک کامیاب ماڈل ہے کیونکہ یہاں 76 روز تک مسلسل لاک ڈاون کے بعد انسداد وبا کی بہتر صورتحال اور مثبت پیش رفت کے بعد ہی شہر کو دوبارہ کھولا گیا ۔

لاک ڈاون کے دوران عوام کی آمد ورفت معطل ہو جاتی ہے اور سماجی فاصلے اختیار کرنے سے وبا کا پھیلاو موئثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔ووہان میں لاک ڈاون کے دوران ایک مربوط نظام کے تحت یومیہ اشیائے ضروریہ اور طبی ساز وسامان پہنچایا گیا جبکہ انسداد وبا کے لیے نگرانی ،آئیسولیشن ،نگہداشت اور علاج معالجے کا ایک قابل تقلید طریقہ کار وضع کیا گیا۔لیکن لاک ڈاون کا فارمولہ تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب عوام حکومت کا بھرپور ساتھ دے۔اکثر یورپی ممالک میں پولیس کی جانب سے باشعور عوام کو تفریحی مقامات پر یہ باور کروانا پڑا کہ لاک ڈاون کا مطلب تفریحی مقامات کا رخ کرنا ہرگز نہیں ہے۔

 

 

 

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کا کہنا ہےکہ اسی طرح عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے سے بھی حوصلہ افزا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔پاکستان سمیت اکثر ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے شہری بھی ماسک کے استعمال سے کتراتے ہیں۔ جو قطعاً مناسب نہیں ہے۔ اس حوالے سے تو ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ ماسک کا استعمال ایک فرد کو وباء کے خطرے سے بچانے میں کافی حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وبائی صورتحال کے تحت عائد پابندیاں اٹھانے کے بعد بھی بازاروں ،تجارتی مراکز ،پبلک ٹرانسپورٹ، طبی و تعلیمی مراکز سمیت ایسے تمام اداروں میں ماسک کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے جہاں عوام کی آمد ورفت زیادہ ہوتی ہے۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کا کہنا ہےکہ انسداد وبا کے حوالے سے متاثرہ افراد کی فوری تشخیص اور آئیسولیشن انتہائی اہم ہے لیکن اکثر ممالک میں ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور متاثرہ فرد سے دیگر افراد تک وباء کی منتقلی تیزی سے جاری رہتی ہے۔ یہاں ملک کے بائیو ٹیک اور تحقیقی اداروں کا کردرا انتہائی اہم ہے اور عوامی رویے بھی ۔ جان بوجھ کر علامتی معلومات چھپانے کا رحجان بھی اکثر دیکھا گیا ہے جس کی حوصلہ شکنی لازم ہے ۔

جب ہم چین کے کامیاب ماڈل کو سمجھںے کی کوشش کرتے ہیں تو انسداد وبا کی کوششوں میں ایک اہم پہلو ” ہیلتھ ڈیٹا بنک” بھی رہا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر ایک شخص کی جسمانی صحت سے متعلق معلومات کو یکجا کیا گیا مثلاً اُس کی سفری معلومات ، رہائشگاہ کا پتہ ، یومیہ ٹمپریچر،علامات اور دیگر معلومات وغیرہ ۔اس بنیاد پر فوری عملی اقدامات کیے گئے اور قیمتی جانیں بچائی گئیں۔پاکستان میں رضا کاروں کی مدد سے یہ اعداد و شمار ترتیب دیے جا سکتے ہیں ،ووٹر لسٹیں بھی موجود ہیں اور عوامی نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں موئثر طور پر ڈیٹا بنک کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،روبوٹس ،ڈرون اور دیگر جدید معیارات اپنائے گئے جسے سے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ اس ضمن میں متعدد ممالک کے طبی اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مسلسل تبادلہ اور تعاون لازم ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاج معالجے سے متعلق معلومات کے تبادلے سے وباء کا راستہ روکا جا سکے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اکثر پاکستانی جامعات میں طلباء کی جانب سے تحقیقی کاوشیں سامنے آ رہی ہیں۔

تجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہتے ہیں کہ وبا کی سنگین صورتحال میں عوامی شمولیت ، فتح کی بنیاد ہے۔پاکستان جیسے گنجان آباد ملک میں عوام کو "آئیسولیشن” کے نظریے کی حقیقی اہمیت کو سمجھنا ہو گا۔ حکومت رہنماء ہدایات جاری کر سکتی ہے لیکن عمل درآمد عوام کی ذمہ داری ہے۔اس بات کا ادراک لازم ہے کہ ایک متاثرہ فرد کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب ہو سکتا ہے ۔ ایسا ہرگز مت سوچیں کہ میرے گھر سے باہر نکلنے سے کیا ہو جائے گا۔لازمی نہیں کہ آپ وباء سے متاثر ہوں مگر یہ اندیشہ ضرور ہو سکتا ہے باہر آپ وباء کا شکار ہو جائیں لہذا اپنی سلامتی اور اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے کچھ عرصہ خود پر جبر کرتے ہوئے ” آئیسولیشن” میں رہنے کی پالیسی اپنائیں تاکہ جس طرح چینی عوام نے نظم وضبط سے ایک قلیل مدت میں وباء کو شکست دی بالکل اسی طرح پاکستان سے بھی خوف کی یہ پرچھائیں ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.