کرونازدہ معاشرے کے مسائل ، تحریر حیاء انبساط

0
50

کرونا نے جہاں لاکھوں لوگوں کو لقمۂ اجل کا نشانہ بنایا وہیں ان سے کئی
گنا زیادہ لوگوں کو زندہ درگور کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے ۔ اگر کسی ایک خاندان کا سربراہ اس وباء کی زد میں آکر اپنی جان کھو بیٹھے تو یہ معاشرہ اس کے خاندان کو جیتے جی سوشل بائیکاٹ کر کے مار دیتا ہے اس پورے خاندان کو اچھوت تصور کر لیا جاتا ہے کنارہ کشی اختیار کر لی جاتی ہے ، اس گھر کے کفیل کے چلے جانے کے بعد گزارا کیسے ہو رہا ہے یہ جاننے اور مدد کرنے کی ذرا بھی زحمت نہیں کی جاتی ۔

کل سپر اسٹور میں ایک خاندان کو دگرگوں حالت میں دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی؛ دیکھنے میں اچھے گھر کی لگتی ایک خاتون بازار سے سوداسلف کی خریداری کر رہی تھی اور پیسے کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے بچوں کے دودھ کے ڈبے اور دوسری ضروری اشیاء واپس کردیں اور چار ہزار میں جو کچھ آیا وہی خرید لیا ۔ ہمارا معاشرہ سڑک پہ بھیک مانگتے پیشہ ور فقیروں کو تو خیرات زکوۃ کے علاوہ امداد دینے کیلئے تیار رہتا ہے لیکن سفید پوش ضرورت مندوں کی جانب سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں جن کی روزی روٹی اس موذی مرض کی وجہ سے چھن گئی یا ذریعہء معاش ختم ہوگیا ؛ اور جو این جی اوز مدد کر بھی دیتی ہیں تو ساتھ کیمرہ اور میڈیا کا جُھنجُھنا ہوتا ہے جسکی وجہ سے سفید پوش افراد بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اپنی عزّت نفس نہیں گنواتے۔

دوسری طرف پاکستانیوں کا حال ملاحظہ کیجیئے۔ ہم خود کتنا قانون پر عمل کرتے ہیں اور ہم میں کتنا سماجی شعور موجود ہے، اس کو سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ایک عام پیمانہ قومی شعوری حالت سمجھنے کے لئے کافی ہے۔کچھ عرصہ قبل کورونا وائرس کے سبب حفاظتی اقدام کے طور پر حجام کی دکان کو بند کیا گیا تھا لیکن آپ سروئے کرلیں وزیراعظم، وزراء، اینکر حضرات سے لیکر ایک عام ریڑھی والے تک 95 فیصد سے زائد افراد کے بال کٹے ہوئے ہیں یہ عمل چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ کون سی ایس او پیز اور کون عمل کر رہا ہے؟

کیا ہم باشعور معاشرے کے ذمہ دار شہری کہلانے کے حقدار ہیں؟
خود بھلے سے رش میں کھڑے ہو کر خرید و فروخت کر رہے ہوں ، بیکری یا ہوٹل کے باہر لوگوں سے بھرے مجمعے میں موجود ہوں ، بنا ماسک یا کسی بھی قسم کی احتیاطی تدبیر کے بغیر ؛ یہ سب ٹھیک ، جائز ؛ تب خیال نہیں آتا کہ اس مجمعے سے تو مجھے یہ وائرس لگ سکتا ہے اور میں اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی جان بھی خطرے میں ڈالنے کا موجب بن سکتا ہوں لیکن جہاں کوئی دوست احباب یا رشتہ دار اس بیماری کا شکار ہو جائے اس سے بہت احتیاط برتی جاتی ہے اسکو اور اسکے گھر والوں سماجی طور پہ تنہا کر کے موت سے پہلے مار دیا جاتا ہے۔

ہم جھوٹے ، منافق اور مکار لوگ ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ایک مرتبہ اپنے گریبان میں جھانک لیں۔ملک میں لاک ڈاؤن لگا ہے جبکہ دوکان داروں نے بھاری رشوت دے دے کر چور راستوں سے اپنی دکانیں چمکا رکھی ہیں چلو اگر انہیں قانون پر عمل نہیں کرنا تو ہم کون سا کر رہے ہیں؟ کیا کسی ایک انسان نے بھی ایسی دکان سے یہ سوچ کر خریداری نہ کی ہو کہ اس نے ماسک نہیں پہنا یا لاک ڈاؤن کے اوقات ختم ہونے کے بعد بھی دوکان کھول کر بیٹھا ہوا ہے۔ پانچ بجے مارکیٹ بند کرنے کا کہا گیا ہے لیکن جب تک پولیس نہیں آتی، ہم دکانیں بند نہیں کرتے۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے جو دکان پانچ بجے کے بعد بھی کھلی ہے، ہم اس شخص سے خریداری نہیں کریں گے؟ یہ تو بہت ہی چھوٹی سی بات ہے، ہم میں سے کتنے لوگ بند گھروں میں دعوتیں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہیں؟ ہم نے قانون پر کتنا عمل کیا ہے؟ صرف ایک کیس سامنے آنے پر ہمیں تنبیہہ ہوجانی چاہئیے تھی، مگرہماری لاپرواہی سے سینکڑوں مریض ہوگئے اور ہزاروں گھروں کے کفیل اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

‎جہاں دیکھیں، لوگ قانون توڑتے دیکھائی دے رہے ہیں کہیں سگریٹ پی رہے ہیں، پان کھا رہے ہیں، اور تھوکنے کی عادت تو ویسے ہی عام ہے، ماسک پہننے کو شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف جو ماسک استعمال کر رہے ہیں ان کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے بجائے سڑکوں پر جگہ جگہ پھینک دیتے ہیں۔ اگلے دن کچرا چننے والے انہیں ماسک کو دھو کر سگنل پر فروخت کر دیتے ہیں۔

بجائے اسکے کہ عوام خود ذمہ دار بنے، الٹا حکومت کو کوستے، انٹرنیٹ پر برا بھلا کہتے اور مذاق بناتے ہیں۔ یقین جانئیے کہ اس میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔حکومت تو اپنی طرف سے کوشش کر رہی ہے مگر ہماری عوام کو نہ تو ماسک پہننے کی عادت اور نہ ہی ویکسینیشن سے کوئی دلچسپی ہے ۔ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں تب ہی حکومتی اداروں کو گھی نکالنے کیلئے انگلی ٹیڑھی کرنا پڑی اور جب عوام کو اپنے عزیز از جان موبائل فون سم کے بند ہونے کی اطلاع ملی تو لمبی لمبی قطاروں میں جوک در جوک عوام کرونا ویکسین لگوانے حاضر ہوگئی ۔

کوئی دشمن ہمیں کیوں مارے گا۔ ہم لوگوں کی کم عقلی ہی ہمیں اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنی اور دوسروں کی زندگی بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو بادلِ نخواستہ، بائیس کروڑ ہی مریض نہ بن جائے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ایک قوم بنیں اور اپنے فرائض سمجھیں۔ اگر کوئی ماسک نہیں پہنتا تو اسے دس روپے کا خرید کر دیں۔ گھر سے نکلتے وقت، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر ساتھ رکھیں۔ اپنے حصے کا کام کریں۔ کوشش کریں کہ رش والی جگہوں سے پرہیز کریں اور جو اصل مستحقین ہیں انہیں تلاش کر کے بے حد خاموشی سے انکی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے انکی مدد کریں۔ کچھ عرصہ یہ کام کرکے دیکھئیے یقین جانئیے کہ یہ بیماری اگر ختم نہ ہوئی تو اسکی شدت میں کمی ضرور آجائے گی اور جو لوگ اس وبأ کے بجائے بھوک سے مر سکتے ہیں انکی زندگیاں بچ جائیں ۔ یاد رکھئیے اگر احتیاط نہ برتی گئی تو کوئی بھی کاروبار کرنے والا ہو یا کسی بھی پیشے سے منسلک ہو وہ اس وبأ کے شر سے محفوظ نہ رہ سکے گا ابھی وقت ہے ، اس وبا کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالئیے۔ خدارا، اپنی اور اپنوں کی فکر کیجئیے۔ محفوظ رہئیے اور کوشش کیجئیے کہ تیس مار خان نہ بنا جائے۔

Twitter handle : @HaayaSays

Leave a reply