fbpx

یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

آسٹریا :یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے ،اطلاعات کے مطابق آسٹریا میں کورونا وائرس کے مسلسل بڑھتے ہوئے دیگر انفیکشنز کو روکنے کے لیے دوبارہ ملک گیر لاک ڈاؤن نافذکر دیا گیا ہے۔

کووڈ انیس کی موجودہ لہر کے دوران آسٹریا میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی روزانہ تعداد حالیہ ہفتوں میں تین گنا ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبے بھی شدید دباؤ میں ہیں۔

آج سے شروع ہونے والا لاک ڈاؤن دس دن کے لیے ہے مگر اس میں مزید دس روز کی توسیع ممکن ہے۔اس دوران عام شہریوں کو صرف اشیائے خوراک کی خریداری یا ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے ہی گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔

ادھرطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے نئی کووڈ پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ، سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر آسٹریلیا میں بھی مظاہرے جاری ہیں‌

تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں نئی کوویڈ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پر پولیس کی جانب سے انتباہی گولیاں چلائی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، ملک بھر سے یونٹس کو کو روانہ کردیا گیا ہے۔

پرتشدد اور بدامنی کا آغاز کچھ ڈچ شہریوں کی جانب سے کیا گیا جو کووڈ کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف پابندیوں پر باہر نکلے تھے۔

فسادات کے آغاز میں پولیس نے واٹر کینن کی مدد سے سینکڑوں مظاہرین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس افسران نے روٹرڈیم میں ہنگامی صورت حال کا آرڈینس جاری کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا اور لوگوں کو گھر جانے کا حکم دیا۔

روٹرڈیم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امن عامہ کی بحالی کے لیے پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی ضروری ہے۔ ایمرجنسی آرڈر ابھی بھی نافذ ہے۔

پولیس کی ترجمان پیٹریشیا ویسلز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “ہم نے انتباہی گولیاں چلائیں اور براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں کیونکہ صورتحال جان لیوا ہوگئی تھی۔

ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتباہی گولیوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن ہمیں اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

حکومت کے مطابق وہ ایک ایسا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس سے کاروباروں کو ملک کے کورونا وائرس پاس سسٹم کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھنے کی اجازت ملے گی جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہوں اور کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان پراللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے اوربہت زیادہ آبادی بہت کم وسائل کے باوجود پاکستان اس بیماری سے باہرنکلنے میں‌ کامیاب ہوگیا ہے