کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کو اب بھارت میں ” ہیرو” کہا جانے لگا

کرونا وائرس، کڑی تنقید کے بعد تبلیغی جماعت کو اب بھارت میں ” ہیرو” کہا جانے لگا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے تباہی جاری ہے، کرونا وائرس کو لے کر بھارت میں تبلیغی جماعت پر کڑی تنقید کی گئی کرونا وائرس کو تبلیغی وائرس کہا گیا تا ہم اب بھارت میں تبلیغی جماعت کے اراکین نے ایسا کام کر دیا کہ بھارت تبلیغی جماعت کے اراکین کو ہیرو کہنے پر مجبور ہو گیا

دہلی کے نظام الدین مرکز میں بھارتی ریاست تامل ناڈو سے شرکت کرنے والے تبلیغی جماعت کے وہ اراکین جن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ صحتیاب ہو گئے ہیں، انہوں نے کرونا کے مریضوں کے علاج کے لئے پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد تبلیغی جماعت کے اراکین جن پر کڑی تنقید کی گئی تھی کو بھارت میں ہیرو کہا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت سے تبلیغی جماعت ہی کرونا کا خاتمہ کر سکتی ہے

دہلی کے نظام الدین مرکز میں شرکت کرنے والے تبلیغی جماعت کے اراکین کو نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف مقدمے بھی درج کئے گئے، ٹویٹر پر ٹرینڈ چلائے گئے لیکن مشکل کی اس گھڑی میں تبلیغی جماعت ہی کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے میدان میں آئی اور رضاکارانہ طور پر پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تامل ناڈو کے ایک ہزار سے زائد تبلیغی اراکین جن کا کرونا ٹیسٹ پہلے مثبت پھر منفی آیا تھا انہوں نے خود کو پیش کر دیا ہے،تامل ناڈو میں 1629 مریض سامنے آئے تھے جن میں سے 1300 افراد نے دہلی اجتماع میں شرکت کی تھی.

کرونا وائرس کے علاج کے لئے پلازمہ تھراپی کے استعمال کے حوالہ سے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی اس صورت میں استعمال کی جاتی ہے جب دوا سے مریض کا علاج نہ ہو سکے، اسلئے اسے پلازمہ دیا جاتا ہے اور مریض صحتیاب ہو جاتا ہے، اینٹی باڈیز سے مریض میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے. پلازمہ کے لئے خون عطیہ کرنے والے کا بیماری سے صحتیاب ہونا ضروری ہے،اسکے لئے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ مریض جو صحتیاب ہوا کم ازکم اسے دو ہفتے گزر چکے ہوں،

تامل ناڈو میں ایمن کالج آف آرٹس اینڈ سائنس فار ویمن کے ڈائریکٹر ، ایم ایم محمد ، پہلے کور ونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور انکا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا ۔ ایم ایم محمد کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر ان سے کہیں گے تو وہ اپنا پلازما عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔میری عمر 68 سال ہے۔لیکن اگر ڈاکٹر مجھے مشورہ دیں گے تو میں تیار ہوں۔ انہیں 16 اپریل کو تریچی جنرل اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ ایم ایم محمد کا کہنا تھا کہ مسلمانوں میں خون کا عطیہ بہت عام ہے۔ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم مذہب یا دیگر اختلافات سے قطع نظر بھی انسانیت کی مدد کے لئے آگے آئیں گے۔

اس ضمن میں تامل ناڈو کے مقامی علماء کرام اور دیگر سماجی کارکنان بھی مختلف اضلاع میں تبلیغی جماعت کے صحتیاب مریضوں سے رابطہ کر رہے ہیں،پلازمہ عطیہ کرنے کے لئے تیار افراد کی ایک لسٹ تیار کی جا رہی ہے، دہلی نظام الدین مرکز کے امیرمولانا سعد کاندھلوی نے تبلیغی جماعت کے اراکین سے پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی جس پر تبلیغی جماعت کے اراکین میدان میں آئے اور ایک ہزار کے قریب اراکین نے اپنے نام لکھوا دیئے.

تامل ناڈو کے ہسپتالوں سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کو ایک فارم بھی دیا جا رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ پلازمہ عطیہ کریں گے، اس فارم پر سوائے تبلیغی جماعت کے اراکین کے کسی نے بھی پلازمہ عطیہ کرنے کی حامی نہیں بھری، دہلی کے اجتماع میں شرکت کرنے والے اراکین جو کرونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں انہون‌نے تامل ناڈو کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے،اب وہی بھارتی میڈیا جو تبلیغی جماعت کے اراکین کو تبلیغی وائرس، کرونا جہاد کہہ رہا تھا اب بھارت کے لئے ہیرو قرار دے رہا ہے، تبلیغی جماعت کے اراکین کا کہنا ہے کہ ہم انسانیت کو بچائیں گے اور بلا تفریق سب کے لئے پلازمہ دیں گے،

تمل ناڈو حکومت پلازما تھراپی کے استعمال کے لئے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) سے منظوری کی منتظر ہے ابھی تک ریاستی سرکار کو اجازت نہیں ملی جیسے ہی اجازت ملے گی پلازمہ سے مریضوں کا علاج شروع کر دیا جائے گا.

دوسری جانب دہلی کے ایک ہسپتال میں 14 اپریل کو ایک مریض کو پلازمہ منتقل کیا گیا تھا، 49 سالہ مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا اسکے والد کا بھی کرونا سے موت ہو گئی تھی جبکہ والدہ میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی تھی،جو اب صحتیاب ہو چکی ہیں، مریض کی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوئے اسکے رشتے داروں نے پلازمہ تھراپی کا کہا جس پر ڈاکٹر نے ایک ایسے شخص کو راضی کیا جو کرونا سے صحتیاب ہو چکا تھا اس نے پلازمہ عطیہ کیا اور دوسرے مریض کو لگا دیا گیا، پلازمہ تھراپی کے بعد مریض کی حالت بہتر ہو گئی اور صرف 5 دن بعد 19 اپریل کو مریض کا کرونا کا ٹیسٹ منفی آیا، مریض کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا وہ بھی منفی آیا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.