کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک

اوسلو: کورونا ویکسین لگوانے والے 23 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق ناروے میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے چند دنوں بعد ہی 23 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والوں میں سے 13 افراد کی موت کورونا وائرس کی ویکسین کے ضمنی اثرات کی وجہ سے ہوئی۔ ان تمام افراد کی عمر 80 برس کے لگ بھگ تھی اور یہ سب نرسنگ ہومز کے رہایشی تھے۔

نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے ضمنی اثرات مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

ناروے میں اب تک 30 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔ جن کی صحت بہت خراب ہو یا عمر رسیدہ افراد کے حوالے سے اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔

دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد مرنے والے 23 افراد میں 21 خواتین اور 8 مرد شامل ہیں۔ فائزر کمپنی کے مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد اموات کا علم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر متعلقہ معلومات بھی جمع کی جارہی ہیں۔

یاد رہےکہ اس سے پہلے جرمنی ، برطانیہ اورایسے کئی دیگرممالک سے کرونا ویکسین لینےوالے افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی ماہر طب نے خبردار کیا ہے کہ کرونا ویکسن موثر نہیں ہوسکتی کیونکہ کرونا وائرس 25 سے30 دن کے اندر اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.