ڈریپ کی جانب سے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری

ایتھلین گلائیکول جسم میں جانے سے مرکزی اعصابی نظام، دل اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے
0
195
drap

اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کھانسی کے شربت میں زہریلے مادے کا ا لرٹ جاری کیا ہے-

باغی ٹی وی : ڈریپ نے جمعرات کو ایک ”ریپڈ الرٹ“ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کھانسی کے سیرپ میں استعمال ہونے والے خام مال میں زہریلے اجزا پکڑے ہیں یہ زہریلے اجزا خام مال کی ایک خاص کھیپ یا بیچ میں پائے گئے ہیں تاہم جس کمپنی نے یہ کھیپ بھیجی تھی اس کے دیگر بیچزسے تیار کردہ کھانسی کا سیرپ مارکیٹ سے اٹھانے اور جانچ کے بعد ہی جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہےیہ کیمیکل تھائی لینڈ کی کمپنی ڈاؤ کیمیکل سے درآمد کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈریپ کے مطابق ڈاؤ کیمیکل کے درآمد شدہ خام مادے پروپلین گلائیکول کی کھیپ نمبر C815N30R41 میں مضرِصحت کثافتوں کی مقدار پائی گئی مذکورہ کھیپ ضبط کر لی گئی ہے اور اس کی پوری سپلائی چین کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں ڈریپ کا کہنا ہےکہ بدنیتی ثابت ہوئی تو ملوث افراد کے خلاف کرمنل کیس فائل کریں گے، تاہم ڈاؤ کییمکل نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں کیا۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر بلوچستان میں پی پی پی اندرونی اختلافات کا شکار

ڈریپ نے کہاکہ کراچی میں سینٹرل ڈرگ اتھارٹی میں ایک نمونے کا جائزہ لیا گیا جس میں مذکورہ کھیپ میں ایتھلین گلائیکول کی حد سے زیادہ مقدار پائی گئی جو صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے ایتھلین گلائیکول جسم میں جانے سے مرکزی اعصابی نظام، دل اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ درآمد شدہ کھیپ کے ذریعے مقامی سطح پر سیرپ تیار کیے گئے تھے یا نہیں، تاہم ڈریپ نے حکم دیا ہے کہ ڈاؤ کیمیکل تھائی لینڈ سے جتنا بھی پروپلین گلائیکول منگوایا گیا ہے اس کی تمام کھیپوں سے تیار کردہ سیرپ کو مارکیٹ میں روک لیا جائے۔

عام انتخابات، آصفہ بھٹو انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا، گمبیا اور ازبکستان میں 300 بچوں کی ہلاکت کا سبب پروپلین گلائیکول کو قرار دیا جا رہا ہے پروپلین گلائیکول کھانسی کے شربت میں عام استعمال ہوتا ہے تاہم درآمدی کھیپ نمبر C815N30R41 میں مضرصحت کثافتیں یا زہریلے مادے شامل پائے گئے ہیں۔

Leave a reply