fbpx

ڈیلٹا ویرئینٹ تحریر: محسن ریاض

ابھی عید کو گزرے چنددن ہی ہوئے ہیں اور ایک نئی بلا نے سر اٹھا لیا ہے – آج کورونا کے کیسز میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کراچی میں اس کی شرح تیس فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے این سی او سی نے اس بات کے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ پاکستان میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ اس بات کا مکمل ثبوت موجود ہے کہ کافی عرصے سے یہ ویرینٹ پاکستان میں موجود ہے ۔سندھ حکومت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور بدقسمتی سے سندھ میں کرونا کے تمام پازٹیو ٹیسٹ ڈیلٹا ویرینٹ کے ہی ہیں اب تک پائے جانے والے تمام ویرینٹ میں سے اسے سب سے زیادہ تباہ کن مانا جاتا ہے کیونکہ اس نے انڈیا میں جو تباہی مچاہی ہے اس کے بارے میں سن کر ہی رونگٹے کھڑے کو جاتے ہیں انڈیا میں ایک دن کے اندر لاکھوں کی تعداد میں لوگ ااس میں مبتلا ہونے لگے تھے اور ہسپتالوں کے اندر جگہ نہ تھی بلکہ اس کی تباہی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو جلانے کے لیے شمشان گھاٹ میں بھی جگہ تنگ پڑ گئی تھی اور شمشان گھاٹوں کے باہر کوگوں کی لمبی لائن ہوتی تھی جو اس بات کا انتظار کر رہے ہوتے تھے کہ باری آنے پر اپنے پیاروں کی نعش کو جلا سکیں سندھ حکومت نے اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر سندھ حکومت نے سوموار سے تمام سکولوں کو بند کرنے کیا ہے صرف جن طلبا کے امتحانات ہو رہے وہ معمول کے مطابق کھلے ہیں اس کی علاوہ ایک اور احسن کام یہ کیا ہے کہ پی ٹی اے اور این سی او سی کو ایک مراسلہ بھیجنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ جن افراد نے ویکسین نہیں لگوائی ان کے سم کارڈ بند کر دئیے جائیں اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بھی اس بات سے مشروط کیا ہی کہ ویکسین کروانے والے افراد ہی وصول کر سکیں گے-عید کے اجتماعات کے علاوہ مویشی منڈیوں میں شدید رش دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ چوتھی ویو آ سکتی ہے کیونکہ ان جگہوں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں دیکھا گیا جس نے ایس او پیز کی پابندی کر رکھی ہو اور مویشی بیچنے والے زیادہ تر ایسے افراد ہی ہوتے ہیں جو کم پڑھے لکھے ہوں اور ان کا دیہاتوں سے تعلق ہوتا ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی اور وہ نہیں سمجھتے کہ وہ وبا کے پھلاؤ میں حصہ ڈال رہے ہیں مگر اصل حیرت کی بات تو یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی وائرس کے پھیلاو میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہا تھا کیونکہ عید کی نماز کے بعد کئی ایسے افراد کو بھی دیکھا جو دوایتی طریقے سے تین بار گلے مل کر عید کی مبارک پیش کر رہے تھے اور اس بات سے ہی منکر تھے کہ کورونا اصل میں موجود ہے بلکہ اس کو امریکا اور بل گیٹس کی ملی بھگت قرار دے رہے تھے پنجاب حکومت اس حوالے سے بالکل خاموش ہے کسی قسم کے اقدامات کے بارے میں نہیں سوچا گیا-بزدار حکومت بے ابھی تک ایسے کوئی اقدامات نہیں کئے جن سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکے بلکہ اس کو زیادہ تر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کرت ہی دیکھا گیا ہے اس کے علاوہ کشمیر الیکشن میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں نے کورونا کو نظر انداز کیا ہے بلکہ مجھے پیپلز پارٹی پر اور ان کے دوہرے معیار پر اس سے بھی زیادہ حیرت ہوئی کیونکہ سندھ میں تو انہوں نے کورونا کو قابو کرنے کے اقدامات کیے مگر یہاں پر ایسا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ بقول حلیم عادل شیخ کے پیسوں سے بھرے جہاز کشمیر کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیے گئے اگر خدانخواستہ ڈیلٹا ویرینٹ انڈیا کی طرح تباہی مچاتا ہے تو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا کہ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے ایڑیاں رگڑتے ہوئے دیکھیں اس لیے ضروری ہے کہ اپنے تمام رشتہ داروں کو آمادہ کرئیں کہ وہ ویکسین لگوائیں اور حکومت سے بھی اپیل ہے کہ اس ویرینٹ کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں تاکہ اس عفریت سے بچا جا سکے

ٹویٹر-mohsenwrites@