معاشرتی فاصلہ جتنا بھی کرلیں کووڈ 19 کے خطرات برقرار رہیں گے

لندن :معاشرتی فاصلہ جتنا بھی کرلیں کووڈ 19 کے خطرات برقرار رہیں گے ،تفصیلات کے مطابق برطانوی ماہرین طب اس بات پرتحقیق کررہےہیں اور ان کا کہنا ہےکہ کرونا وائرس معاشرتی فاصلوں کے باجود اپنے اثرات ضرور رکھتا ہے ، اسی حوالے سے دی گارڈین نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا موضوع ہے اگر کوڈ 19 ہمارے سب سے بڑا خطرہ نہیں ہے تو کیا ہوگا؟

اس مضمون میں لکھا ہےکہ چاہے معاشرتی طور پر کتنا دور ہو یا اس میں کتنا زیادہ ہاتھ دھولیں کووڈ 19 کے خطرات تو پھر بھی رہیں گے – دی گاڑدین میں‌چھپے اس مضمون میں ہم مستقبل کے مہلک پھیلاؤ کو روکنے ، یا کم سے کم حد تک کسی قسم کے بین الاقوامی اقدام کی توقع کرسکتے ہیں۔

اس مضمون میں لکھا گیا ہےکہ ماہرین اس کی تباہ کاریوں سے کچھ زیادہ واقف نہیں تھے اوران کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ تباہی کی توقع کرنے میں بہت کم مہارت رکھتے ہیں جس کی زندہ یادداشت میں کوئی مثال نہیں ہے۔ "یہاں تک کہ جب ماہرین کسی بے مثال واقعے کے ایک اہم امکان کا تخمینہ لگاتے ہیں ،” وہ لکھتے ہیں ، "ہمیں اس پر یقین کرنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے جب تک کہ ہم اسے نہ دیکھیں۔” یہ خاص طور پر کورونا وائرس کا مسئلہ تھا۔

دوسری طرف سائنس دانوں نے پشین گوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں کسی بھی وقت عالمی وبا پھیلنے کا تقریبا یقین ہے۔ ماہر مائیکرو سافٹ کے بانی ، بل گیٹس نے ، وائرسولوجسٹ اور وبائی امراض کے فوقوں کے انتباہات کے علاوہ ، 2015 میں ایک وسیع پیمانے پرپھیلنے کے حوالے سے انہون نے قاتل وائرس کے خطرے کو تفصیلی طور پر پیش کیا۔

اس مضمون میں لکھا ہے کہ بل گیٹس 2015 میں ہی اس کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کے سد باب کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ،دوسری اہم بات یہ کی گئی ہے کہ اس کے خطرات کو نہ تو عوام ، ماہرین اورنہ ہی حکومتوں نے اس کے خطرات کو بھانپا یہی ایک لمحہ فکریہ ہے ،

مضمون نگارلکھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ معاشرتی فاصلے ہوں یا اس پرتحقیقات کا سلسلہ اس کے اثرات کو کم نہیں کررہا یہ بات مستقبل میں مزید تباہی پھیلا سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.