fbpx

کوویڈ کے دوران موت کی جھوٹی خبروں سے تکلیف ہوئی روبینہ اشرف

پاکستان کی سینئر اداکارہ روبینہ اشرف کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کوویڈ کے دوران ان کے بارے میں پھیلنے والی موت کی جھوٹی خبروں سے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی۔

باغی ٹی وی :روبینہ اشرف نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کےدوران بتایا کہ گزشتہ برس کووڈ 19 کا شکار ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے ان کی حالت بہت زیادہ خراب تھی یہاں تک کہ ان کی وفات تک کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں-

روبینہ اشرف نے کوویڈ کے دوران اپنی موت کی جھوٹی خبریں پھیلنے کے حوالے سے کہا کہ میں کوویڈ کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ ماہ اسپتال میں رہی تھی اور اس دوران میری حالت اتنی زیادہ خراب تھی کہ مجھے دنیا کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی صرف یہ معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے جو کہ بہت برا تھا۔

دوسری شادی سے متعلق بیان پر منیب بٹ کی وضاحت

اداکارہ روبینہ اشرف نے کہا اس دوران میری بیماری اور موت سے متعلق جھوٹی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں جس کی تردید متواتر میرے گھر والے کرتے رہے خبر دینا ایک بہت ذمہ داری کا کام ہے اور تصدیق کیے بغیر لوگ صرف سنسنی پھیلانے کے لیے غلط خبر دیتے ہیں انہیں بہت گناہ ہوگا کیونکہ وہ کسی کے مرنے یا بیماری کی خبر دے کر ان کے گھر والوں کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔

روبینہ اشرف نے کہا کوویڈ 19 کے بعد انہیں زندگی میں دوبارہ واپس لانے والے تین لوگ ہیں ان کے بھائی، شوہر اور ان کی بیٹی منیٰ۔ میں سمجھتی ہوں ماں باپ کو زندہ بیٹیاں ہی رکھتی ہیں کیونکہ یہ وہ ہوتی ہیں جو اپنے والدین کو کسی بھی حالت میں جانے نہیں دینا چاہتیں۔

روبینہ اشرف نے بتایا کہ کئی لوگوں نے جب ان کی بیماری میں ان کی بیٹی منیٰ سے ان کی حالت کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب ہوتا تھا کہ پریشان نہ ہوں، میں انہیں جانے نہیں دوں گی۔

روبینہ اشرف کی بیٹی منیٰ نے بھی حال ہی میں پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں کریئر کا آغاز کیا ہے انہوں نے اپنا پہلا ڈراما ’رسوائی‘ اپنی والدہ کے ہی ساتھ کیا جسے روبینہ اشرف نے ڈائریکٹ کیا تھا-

روبینہ اشرف کا کہنا تھا ‘میں چاہتی تھی کہ منیٰ اپنا پہلا ڈراما میرے ساتھ کرے کیونکہ جہاں ضرورت پڑی میں اس کو تھپڑ لگا دوں گی۔’ بطور ڈائریکٹر روبینہ اشرف نے منیٰ کے کام کی تعریف کی اور کہا ان کے خدشات کے برعکس منیٰ نے بہت اچھا کام کیا۔

والد کو "غدار” کہنے والے شخص کو اذان سمیع کا جواب

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!