fbpx

کورونا وائرس سے ایک مریض انتقال جبکہ کیسز میں نمایاں کمی

کورونا وائرس سے ایک اور مریض انتقال کر گئے جبکہ کیسز میں نمایاں کمی واقع پوئی.

قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 1 مریض انتقال کر گئے جبکہ 99کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 9ہزار161 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 1.08 فیصدر رہی ۔


قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے89 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے. ملک میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے. نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا۔

کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔