محرم الحرام کی آمد,سی پی او راولپنڈی نے سیکورٹی پلان تشکیل دے دیا

راولپنڈی :سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے محرم الحرام کے لئے سیکورٹی پلان بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی تقریبات میں معمولی سی قانون شکنی بھی ناقابل برداشت ہے،وفاقی دار الحکومت کے ساتھ جڑواں شہر ہونے کی وجہ سے راولپنڈی کی بہت حساسیت ہے،ماضی میں یوم عاشور جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہم اس طرح کے واقعہ کو سوچنے کے بھی متحمل نہیں،ایس ایچ اوز،ڈی ایس پیز اور ایس پیز امن کمیٹی سمیت قانون پسند سماجی،تجارتی اور صاحب الرائے حلقوں سے مشاورت کرکے سیکورٹی برانچ کو محرم پلان کے لئے تجاویز بھجوائیں،ان کی روشنی میں حتمی سیکورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ مذہبی،فرقہ وارانہ اور مسلکی شر ا نگیزی محض شر انگیزی نہیں ہوتی بلکہ بدتمیزیوں اور قانون شکنیوں کا وہ طوفان ہوتا ہے جو خدا نخواستہ آ جائے تو وہ سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہی کرتا ہے،پولیس نے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہے کہ جو بھی حالات ہوں فرقہ وارانہ اور مسلکی شرانگیزی کی چنگاری کو نہ صرف سلگنے سے پہلے بجھانا ہے بلکہ سلگانے والوں کو جیل بھجوا کر نشان عبرت بنانا ہے،انہوں نے کہا کہ ”اپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں،کسی کے عقیدے کو چھیڑو نہیں“ کا فارمولہ پرہرمکتب فکر کو ہر حال میں عمل کرنا ہو گا،انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ نفرت آمیز تقاریر،شر انگیزی والے لٹریچر اور اکسانے والے نعروں پر مبنی وال چاکنگ کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں،وزارت داخلہ نے جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے وہ کسی بھی عنوان سے کوئی بھی سرگرمی نہیں کر سکتیں،فورتھ شیڈول میں شامل افراد اگر کسی بھی عنوان سے کوئی سرگرمی کریں گے یا اپنے مسکن سے غائب ہوں گے تو ان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے مقدمات درج ہوں گے،سی پی او نے کہا کہ مذہبی جلوسوں کے حوالے سے واضح احکامات ہیں کہ روائتی اور لائسنسی جلوسوں کے علاوہ کوئی جلوس نکل نہیں سکے گا،روائتی اور لائسنسی جلوس اپنے روٹ سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہو سکیں گے،مقر رہ وقت سے پہلے نہ کوئی جلوس نکل سکے گا اور نہ ہی مقررہ وقت کے بعد ایک سیکنڈ بھی جاری رہ سکے گاجبکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی سمیت نیشنل ایکشن پلان کی ایک ایک شق پر سختی اور قانون کی طاقت سے عمل کروایا جائے گاسی پی او نے کہا کہ محرم سے2ماہ قبل اسی لئے سیکورٹی پلان کی ایکسرسائیز شروع کی گئی ہے کہ اس میں امن کمیٹی سمیت تمام طبقات کی مثبت تجاویز کو شامل کر کے ایساسیکورٹی پلان ترتیب دیا جائے جس پر تمام مکاتب فکر اور راولپنڈی ضلع کے تمام حلقوں کو اطمینان ہو کیوں کہ راولپنڈی پولیس نے کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے خدا کے فضل و کرم سے اس سال محرم الحرام کے پروگراموں کوتاریخی حوالے سے پرامن طور پر ہر حوالے سے قانون کے دائرے میں مکمل کروانا ہے،سی پی او نے کہا تھانوں سے لے کر ضلع کی سطح تک امن کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اگر اس میں ردو بدل ناگیز ہو تو متعلقہ اتھارٹیز کو تجاویز دی جائیں تاکہ قانون اور ضابطے کے تحت از سر نو مربوط حکمت عملی ترتیب دی جا سکے،سی پی او نے کہا کہ ایس ایچ او ز،ڈی ایس پیز اور ایس پیز کی طرف سے امن کمیٹیوں کے اجلاس مکمل ہونے کے بعد میں خود بھی امن کمیٹی کے معززقانون پسند مذہبی سماجی راہنماؤں سے ملوں گا ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ امن کمیٹی کے اجلاس کو ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ کیا جائے تاکہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی اس قدر فروغ پائے کہ لوگ راولپنڈی ضلع کی مثال دیا کریں،سی پی او نے کہا کہ اس نیک کام کے لئے پولیس کو جو بھی وسائل درکار ہوں گی وہ ون ونڈو آپریشن کے تحت فوری طور پر میں خود مہیا کروں گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.