fbpx

1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –

باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔

برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔

محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔

کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔

قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-

انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت