کسٹم اور مافیا کی ملی بھگت سے پچھلے سال 200 ارب کی کرپشن کا انکشاف

لاہور : کسٹم حکام مافیا کی ملی بھگت سے سالانہ 200 ارب کی کرپشن کا انکشاف، 10بڑے درآمد کنندگان سے مل کر سالانہ کھربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے . کسٹم حکام اور مافیا حکام کی یہ ملی بھگت ملکی معشیت کے لیے تباہی سے کم نہیں. یہ بھی یاد رہے کہ جاپان سے دو طرح کی گاڑیاں منگوا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ ابھی رکا نہیں.

باغی ٹی وی کو حاصل ہونی والی معلومات اور دستاویزات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہر ماہ 7 سے 8 ہزار گاڑیاں جاپان سےمنگوائی جارہی ہیں.جن پر کسٹم حکام اور مافیاسالانہ اربوں روپے قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں.

باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق جاپان سے نئی گاڑیاں خرید کر اس کو بندرگاہ تک پہنچنے سے پہلے 300 کلومٹیر چلایا جاتا ہے اور مافیا اور کسٹم حکام پہلے تو اس کو کم قیمت میں‌ظاہر کرتا ہے . مثلا ایک گاڑی 1 کروڑ کی خریدی ہے تو اس کو 70 لاکھ کا ظاہر کرکے ٹیکس بچایا جاتا ہے ، دوسری واردات کچھ اس طرح ہےکہ اس کو استعمال شدہ گاڑی ظاہر کرکے 20 فیصد کسٹم بچا لیتے ہیں،

ذرائع کے مطابق دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ جاپان سے آنے والی گاڑیوں کی سی سی کم بتائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان پر اتنا ہی کسٹم ڈیوٹی کم پڑتی ہے . یوں ہر سال اربوں روپے کا نقصان اس صورت میں اٹھانا پڑتا ہے. اس کے بعد کیا ہوتا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں

باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق کسٹم حکام اور مافیا مل کر جاپان سے وہ گاڑیاں منگوا رہے ہیں کہ جن کو جاپان میں کباڑ قرار دیا جاتا ہے اور یہ گاڑیاں یہ مافیا فری کی صورت میں‌ لے کر آتا ہے ، پھر اس کباڑ پر بہت ہی کم کسٹم اور ٹیکس پڑتا ہے . جب یہ گاڑیاں پورٹ سے مافیا کے ویئر ہاوسز میں‌پہنچتی ہیں تو ان کو استمعال شدہ ظاہر کرکے بیچتے ہیں اور اس طرح کباڑ کی گاڑیوں کو سیکنڈ ہینڈ ظاہر کرکے پاکستانیوں سے سالانہ اربوں روپے ناجائز بٹور رہے ہیں.

باغی ٹی وی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق جاپان اورچین کی نسبت یورپ سے خصوصا جرمنی کے منگوائی جانے والی گاڑیوں میں ایک تو دونمبری نہیں‌ہوتی کیونکہ یہ کپمنیاں معیار پر کمپرومائز نہیں کرتیں، دوسرا یہ کہ جب یہ گاڑیاں پاکستان پہنچتی ہیں‌تو سب سے پہلے ملکی خزانے کو کرروڑوں روپےدیتی ہیں یورپ سے پاکستان آنے والی گاڑیوں کا ایک خاصا یہ ہے کہ پاکستان میں پہنچ کر ان کی قیمتیں جاپان سے منگوائی جانی والی لینڈ کروزرز گاڑیوں سے کم پڑتی ہے.

ذرائع کے مطابق پچھلے سال 1100 کے لگ بھگ لینڈکروزر گاڑیاں جاپان سے منگوائی گئیں اور ایک گاڑی پر کسٹم اور مافیا نے کم وبیش 1کروڑ بچایا ہے اور یوں ملکی خزانے کو 1100 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا

باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق جاپان اور چین سے منگوائی جانی والی گاڑیوں کو جس طرح قانونی اور ماحول کے لیے درست بتایا جارہا ہے اس میں‌بھی دو نمبری کی جارہی ہے.حالانکہ جاپان میں ان گاڑیوں کو ماحول مخالف قرار دے کر ان کے استعمال پر پابندی ہے . لیکن یہ گاڑیا پاکستان میں‌قابل استعمال ہیں . ان حالات کے پیش نظر ماہرین ماحولیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جاپان سے گاڑیوں کی درآمد کی صورت میں جاپان کی پری شپمنٹ ایجنسی Bureau Veritas یا جاپانی آٹواپریزل انسٹی ٹیوٹ (جے اے اے آئی) کا تصدیقی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے۔

ماہرین کے مطابق جاپان سے گاڑی کی درآمد کے لیے جاپانی آکشن ہاؤس کی 4.5گریڈنگ لازمی قراردی جائے ایسی گاڑیوں کو درآمد کی اجازت نہ دی جائے جو 15ہزار کلومیٹر سے زائد چل چکی ہوںاسی طرح زنگ آلود گاڑیوں، سیلاب سے متاثرہ گاڑیوں، چیسس ایکسیڈنٹ گاڑیوں کو بھی درآمد کی اجازت نہ دی جائے۔

ماہرین کے مطابق آٹو انڈسٹری کے لیے ایک جامع قومی پلان کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس پلان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ قومی آٹو پالیسی کے تحت درآمدی اور مقامی سطح پر تیار گاڑیوں میں پسنجر سیفٹی، کوالٹی اور گاڑیوں کی سڑکوں پر چلنے کی اہلیت یقینی بنانے سمیت 15سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو متروک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.