ڈیرہ غازیخان : خاتون کی ناک کاٹنے کے واقعہ پر ہیومن رائٹس پاکستان کی طرف سے ڈی پی او سے3 دن میں رپورٹ طلب

پولیس نے تحقیق کرنے کی بجائے خبربریک کرنے والے صحافی پر ایف آئی آر درج کر دی

ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) خاتون کی ناک کاٹنے کے واقعہ پر ہیومن رائٹس پاکستان کی طرف سے ڈی پی او سے3 دن میں رپورٹ طلب
پولیس نے تحقیق کرنے کی بجائے خبربریک کرنے والے صحافی پر ایف آئی آر درج کر دی ،اب ہیومن رائٹس کے نوٹس لینے پر ڈی پی او کے حکم پر مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ،صحافی پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے اور صحافی کو ہراساں کرنے والوں کیخلاف بھی ڈی پی او ایکشن لیں ،صحافی تنظیموں کامطالبہ

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے علاقہ شاہ صدر دین کے ایک مقامی صحافی جاوید صدیقی نے کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی کہ شاہ صدر دین محلہ نئی آبادی احمد شاہ والا میں ذرائع کے مطابق دو روز قبل دو خواتین کے ناک کاٹ دیے گئے ابھی تک کارروائی نہیں ہوئی ڈی پی او سے استدعا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ کچھ دیر بعد اس صحافی نے ایک اور پوسٹ کی جس میں اس نے لکھا کہ آج جو میں نے خاتون کے ناک کاٹنے کی خبر لگائی تھی اس وقت بھی میں ذمہ داری قبول کرتا ہوں ایس ایچ او شاہ صدر دین سمیت متعدد اداروں کی طرف سے میرے پاس کال آئی کہ ڈی پی او صاحب نے نوٹس لیا ہے مہربانی کریں پوسٹ ڈیلیٹ کردیں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تو میں نے ان کو جواب دیا ہے جو متاثرہ خاتون ہیں اچھی ہیں یا بری، ماں بیٹی سا نجھی ہوتی ہیں ان کو سامنے لایا جائے پر یس کا نفرنس کیجئے میں بھی ڈیرہ غازیخان میں موجود ہوں

جس پر بتایا گیا کہ وہ گھر میں نہیں ہے اب اطلاع ملی ہے پولیس کے دباؤ پر فیصلے کیلئے اکٹھ ہو رہا ہے اور معاملہ رفع دفع کیا جا رہا ہے میری کسی سے ذاتیات نہیں اور نہ میں کسی کو جانتا ہوں اگر کوئی عورت یا مرد غلط ہے تو وہ ان کا ذاتی فعل ہے دونوں فریقین فیصلہ کر لیتے ہیں تو ٹھیک ہے نہیں تو قانون کا اپنی کارروائی جاری رکھنی چاہیے وقت آگیا ہے کہ نا جائز معززین کو بھی قانون کا بتایا جائے قانون بھی کوئی چیز ہوتی ہے نہ کہ دعوتیں اور پیسے۔

لوگ پوچھ رہے ہیں دوسرے کسی صحافی نے ایسی خبر نہیں لگائی میں نے کہا اس قسم کی خبریں وہ لگاتے کب ہیں اللہ پاک میرے علاقے کی، ہماری عزتوں کی حفاظت فرمائے۔ جمعرات کے روز مذکورہ صحافی نے ایک پوسٹ کی کہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہوں دوکشتی کا سوار ہوں مشورہ درکار ہے۔ مجھے اطلاع ملتی ہے میرے شاہ صدر دین میں دو خواتین کا ناک کاٹ دیا گیا ہے۔ میں نے سمپل سی خبر لگائی کسی کا نام نہیں لیا لیکن میرا سورس قابل اعتماد تھا۔ اسکے بعد ایس ایچ او شاہ صدر دین، اسکے بعد سکیورٹی کا نسٹیبل اسکے بعد پھر ایس ڈی پی او کا فون آتا ہے اور وہ حالات پوچھتے ہیں، میں ان کو بتاتا ہوں اور سب مجھے کہتے ہیں کہ ایسا کوئی وقوعہ نہیں ہوا،

اس کے بعدپولیس کی طرف مقامی صحافی جاوید صدیقی کے خلاف تھانہ شاہ صدر دین میں ٹیلیگراف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے اور اس معاملے کو دبانے جھوٹ ثابت کرنے کیلئے شاہ صدر دین پولیس نے دو خواتین سے ویڈیو بیان بھی جاری کرادیا اور مقامی صحافی کو مختلف ذرائع سے دبائو میں لانے کیلئے پولیس نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کردئے ۔

تاہم دوسری جانب مقامی صحافی بدستور اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے متاثرہ لڑکی کی تصویر جاری کر دی جسکی ناک پر چھری کا نشان دیکھا جا سکتا ہے، صحافی کیجانب سے مقامی پولیس کو مذکورہ متاثرہ لڑکی کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ اس ضمن میں ڈیرہ غازی خان کے علاقے شاہ صدر دین کے علاقے میں مبینہ خواتین کے ناک کاٹنے کے وقوعہ کے گتھی سلجھ نہ سکی اس ضمن میں پولیس کی جانب سے جو ویڈیو جاری کی گئی ہے،مقامی صحافی جاوید صدیقی نے موقف اختیار کیا ہے کہ میری خبر میں ان خواتین کا ذکر نہیں ہے

تاہم تھانہ شاہ صدر دین کے علاقے میں خاتون کی ناک کاٹنے کے واقعہ پر ہیومن رائٹس پاکستان کی طرف سے ڈی پی او ڈیرہ غازیخان سے تین دن میں رپورٹ طلب کی گئی ہے ، ڈی پی او سید علی کے نوٹس پر تھانہ شاہصدر دین پولیس نے پھرتی دکھاتے ہوئے سلمی عرف عنی نامی عورت کے ناک پر چاقو سے کٹ لگانے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا،تھانہ شاہصدر دین میں ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 189/24 درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی۔وقوعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے ریڈ کر کے ایک ملزم صفدر ولد سلطان کو گرفتار کر لیا۔

یاد رہے کہ خاتون کے ناک کاٹنے کی ویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کرلی ہے

عوامی وسماجی اورصحافتی تنظیموں کے نمائندوں کاکہنا ہے پولیس کے مطابق جب یہ وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے تو پھر مقدمہ کیوں درج کیا گیا اورپھر ملزم کوبھی گرفتار کرلیاگیا،اُس وقت پولیس نے تحقیق کرنے کی بجائے خبربریک کرنے والے صحافی پرجھوٹی ایف آئی آر درج کر دی اورصحافی پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے اور اسے ہراساں کرنے والوں کیخلاف بھی ڈی پی او ایکشن لیں۔

صحافی جاوید صدیقی اور ایس ایچ او شاہ صدر دین کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت

Leave a reply