fbpx

ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

وزیراعظم عمران خان کی زیادہ توجہ اس وقت ان ملکی مسائل پر ہے جو کئی دہائیوں سے توجہ طلب ہے بڑھتی ہوئی آبادی مانگ میں اضافہ اس وقت توانائی کی کمی میں اہم مسئلہ ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنائیں گے اور اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے ہنگامی بنیاوں پر دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز کروایا.

جس وقت وزیراعظم عمران خان ان ڈیمز کے کام آغاز کروایا انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کے بارے میں مزید کہا کے اس سے ہمارے توانائی کے وسائل میں اضافہ ہوگا.اور ہمیں توانائی کے حصول میں آنے والی مشکلات کم ہونگی.

وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آج ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ 4500 میگاواٹ ہائیڈل پاور پیدا کرے گا اور کم از کم 16 ہزار ملازمتیں فراہم کرے گا انشءاللہ.

وزیر اعظم نے بھی اپنے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ حکومت "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کی طرف جا رہی ہے۔

"یہ ہمارا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ چین نے تقریبا 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے ہیں ، لیکن چین میں ان کے اب تک کُل اسی ہزار ڈیم ہیں۔ اس سے آپ کو پتہ چلتا ہے کے آپ اس ڈور میں کہاں ہیں اور ابھی آپ کو اس سیکٹر میں کتنی محنت کی ضرورت ہے.

اس کام کی کی تعمیر کرنے کا فیصلہ پانچ دہائیاں پہلے لیا گیا تھا۔ ڈیم بنانے کے لیے یہ سب سے بہترین جگہ ہے اور اس کا انتخاب چار سے پانچ دہائیاں پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ، اور آج اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ ہی ہے ہماری ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ۔ ”

سوچنے کی بات ہے اگر ہم توانائی حاصل کرتے ہیں دوسرے ممالک سے تو ہمارا زرمبادلہ کا ایک اہم حصہ ہیں کے حصول میں صرف ہوتا ہیں جب کے ہم ملکی وسائل کا سہی وقت پے استعمال کرتے اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر رکھتے تو آج توانائی میں خود کفیل ہوتے لیکن اس ضرورت کو صحیح وقت پے سمجھا ہی نہ گیا اور پانچ دہائیاں تک ملک میں اس طرح کے اہم منصوبوں پر کام شروع ہی نہ ھوا.
وزیراعظم عمران خان نے مزید بتایا کہ حکومت اب دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے کی طرف بڑھے گی جس سے زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوگا اور پاکستان کو اپنا ایندھن خود پیدا کرنے کی اجازت ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل یا کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ "فوائد دوہرے ہیں۔ ہمیں توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والی اشیاء دوسرے ملکوں سے لینا نہیں پڑے گا .

عمران نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ”

بڑھتے ہوئے توانائی کی کمی کے مسائل کو کم کرے گا انشاء اللہ.

اور انشاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ ڈیم گلگت اور بلتستان کے لوگوں بالخصوص چلاس میں رہنے والوں کی قسمت بدل دے گا۔

90 کی دہائی میں درآمد شدہ فرنس آئل کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے فیصلوں نے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو اسے 20 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا ، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہے۔
ایک اہم بات جو ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے مہنگائی کا ہم سب رونا روتے ہیں اور اس کی اصل وجوہات کی طرف ہم نہں آتے.

پاکستان میں توانائی کے مسائل کی وجہ سے ہمیں توانائی کے حصول کے لیے دوسرے ممالک سے خرید کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ زر مبادلہ باہر چلا جاتا ہے اور اسے ہمارے روپے کی ويلو میں کمی آتی ہے اور اس آپکی ملک کے اندر ہر چیز کی قمیت خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور
اس سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

حقیقت میں صحیح معنوں میں پاکستان کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہں دی گئی اگر بڑھتی ہوئی آبادی کا صحیح تہمینہ لگایا جاتا اور اس حساب سے ضرورت زندگی کی پیداواری صلاحیت کو مدد نظر رکھا اور بر وقت ملکی وسائل کو صحیح استعمال میں لایا جاتا تو آج ملک اس طرح کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا پاکستان اس طرح شدید قسم کے توانائی کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا اور مہنگائی بھی اس طرح عروج پے نہ ہوتی.

Twitter handle
@aworrior888