کراچی کی میڈیکل یونیورسٹی کے ملازمین کا دھرنا،ایس او پیز کی دھجیاں بکھیر دیں

ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کا دھرنا جاری، انتظامیہ سے مذاکرات ناکام
کراچی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ملازمین کے جائز و قانونی دیرینہ مطالبات کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام مرکزی ارکان، ممبران و کارکنان کی بڑی تعداد نے اوجھا کیمپس کی او پی ڈی بلاک کے ساتھ کیمپ میں دو گھنٹے کا علامتی دھرنا دیا، مسائل کے حل کیلئے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرنسپل, ڈائریکٹر فنانس اور رسالہ تھانے کے ایس ایچ او کی موجودگی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی جسمیں تمام 14 نکات پر ایک بار پھر تفصیل سے بات کی گئی لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بے پناہ اصرار کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ تحریری اعلامیہ یا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کررہی اس بنا پر معاملات میں مزید پیش رفت نہیں ہوئی،

دریں اثنا یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین کے احتجاج کے دوران کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کمشنر کراچی کے نام درخواست میں نے لکھا ہے کہ گذشتہ دو ہفتے سے ڈاؤ یونیورسٹی میں بعض ملازمین دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور اس دھرنے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اراکینصوبائی اسمبلی کو بھی مدعو کر رہے ہیں سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تصاویر و وڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمین کے اس احتجاج میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،

خط میں انتظامیہ نے 14 نومبر کو پیش آنے والے ناخوشگوار واقع کا حوالہ بھی دیا گیا اس سے نہ صرف انتظامی امور اور تعلیم و تدریس کا عمل متاثر ہوا بلکہ کورونا کے مریضوں کو دی جانے والی طبی امداد بھی متاثر ہوئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.