fbpx

جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ ایک سعی لاحاصل،تجزیہ: شہزاد قریشی

امریکی صدر جوبائیڈن ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ مگر بہت دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق ہے۔ روس یوکرین جنگ، امریکی معیشت پر اس کے اثرات۔ امریکہ میں اس وقت مہنگائی 40 سال کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر ہے۔ خارجہ محاذ پر یکسر ناکام جوبائیڈن داخلی محاذ پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں جو بائیڈن کا گراف تیزی سے گر رہا ہے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست یقینی نظر آرہی ہے جو ڈیموکریٹک کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

مہنگائی اور تیل کی قیمتوں کے اندرون ملک اور عالمی سطح پر کم کرنے کے لئے امریکہ کو سعودی عرب کی مدد ناگزیر ہے۔ امریکی صدر نے انتخابی مہم میں سعودی عرب کو ترک صحافی جمال خشوگی قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اچھوت ملک قرار دیا تھا لیکن روس یوکرین جنگ اور امریکی معیشت تیل کی قیمتوں کے اضافے نے امریکی صدر کو سعودی عرب کے دورے پر مجبور کر دیا۔

عالمی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے اور عالمی صورتحال کے تناظر میں جو بائیڈن کا دورہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگا مگر یہ بھی سچ ہے کہ بائیڈن اپنے دیرینہ عرب حلقوں کو منانے میں بہت دیر کر دی ہے جواب امریکہ کی بہ نسبت روس اور چین پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔

روس اور یوکرین کے تناظر میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں روس کے خلاف ہر اقدام پر خلیجی ملکوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب خلیجی ملکوں کو امریکہ پر اعتبار نہیں رہا کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد امریکی ساکھ میں گراوٹ اور روس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں جوبائیڈن کا دورہ مشرق وسطیٰ انتہائی تاخیر سے کی گئی ایک سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے۔