fbpx

وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کی تحقیقات بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہے

بھارتی وزارت داخلہ نے اس ضمن میں این آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ہونے والے حملے کا از سر نو تحقیقات کا آغاز کیا جائے،اس سے قبل نیشنل سیکورٹی گارڈ اور این آئی اے مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی تھیں،دوسری جانب حملے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے ، جائے وقوعہ سے ابتدائی شواہد اکٹھے کر فرانزک کے لئے بھجوا دیئے گئے ہیں

بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ہونیوالے حملے کی تحقیقات کرنیوالی بھارتی ایجنیسوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں آر ڈی ایکس استعمال ہوا ہے، اس حملے میں کشمیریوں کی عسکری تنظیم لشکر طیبہ یا پاکستان میں فعال عناصر ملوث ہو سکتے ہیں

قبل ازیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ڈرون حملے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، سیکرٹری داخلہ اجے بھلا، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈیول سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس مودی کی رہائشگاہ پر ہوا.اجلاس میں مودی کو ڈرون حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لئے جامع پالیسی کی تشکیل پر غور کیا گیا جبکہ بھارتی افواج کو اینٹی ڈرون سسٹم دینے پر بھی مشاورت کی گئی

قبل ازیں جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ جن ڈرون سے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ کیا گیا وہ بھارت کے اس پار سے آئے تھے، انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر سرحد پار کہا اور کچھ اہم شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرون سرحد پار سے آئے تھے، مزید تحقیقات این آئی اے کر رہی ہے اور اسکی ٹیم جموں میں ہے

دوسری جانب باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی پی کشمیر وجے کمار کا کہنا ہے کہ ڈرون خطر ہ ایک تکنیکی خطرہ ہے اور اس کا جواب تکنیکی طور ہی دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہم نے ایک میٹنگ بھی کی اور ہم نے پوری تیاری بھی کی ہے جموں کشمیر میں سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائیزہ لیا گیا اور تمام ہوائی اڈوں کے علاوہ حساس تنصیبات کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے

دوسری جانب بھارت نے جموں کشمیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھا دیا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت نے کہا ہے کہ مسلح ڈرون استعمال کرنے کے خدشات پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا.باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق.بھارتی وزارت داخلہ امور کے خصوصی سکریٹری برائے داخلی سلامتی وی ایس کے کا کہنا تھا کہ کہ اب عسکریت پسند اپنے ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، عسکریت پسندوں کی مالی اعانت اور ہر روز نئے طریقے سے کاروائیوں کے بعد اب ڈرون کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے کم لاگت کا آپشن ہونے کی وجہ سے تیزی سے ڈرون کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ ڈرون باآسانی دستیاب ہوتے ہیں،ڈرون پوری دنیا کے لئے چیلنج اور سیکورٹی ایجنیسوں کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں

دوسری جانب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دنکر گپتا کا کہنا تھا کہ کہ ریاست کی سرحدوں پر ڈرون کے خطرات سے نپٹنے کے لیے پولیس اور بارڈر سیکورٹی فورس کے مابین بہتر رابطے ضروری ہیں . باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحد پرباڑ لگانے سے سرحد پر سیکورٹی بہتر ہوئی تھی مگر اب ڈرون سے نیا خطرہ سامنے آ گیا ہے جو ہمارے اداروں کے لئے چیلنج ہے ، ڈرون سے نمٹنے کے لئے ملکر حکمت عملی اپنانی ہو گی

پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دنکر گپتا کا مزید کہنا تھا کہ 2019 میں ڈرون کا استعمال ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لئے کیا گیا تھا اور یہ امرتسر میں ہوا تھا،اب جموں میں حملے کے بعد سیکورٹی تشویشناک میں اضافہ ہو گیا ہے،گزشتہ 20 ماہ میں 60 سے زیادہ ڈرون دیکھے گئے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے ہمیں ایک ہونا ہو گا

واضح رہے کہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے جموں میں فضائیہ کے اڈے پر تین روز قبل حملہ ہوا تھا جسے ڈرون حملہ کہا گیا، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی ٹیم نے جموں کے بھارتی فضائیہ کے اڈے کے دورہ کیا اور ہونے والے دو دھماکوں کی تحقیقات کیں، دھماکوں میں بھارتی فضاییہ کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا

بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے ابتدائی تحقیقات میں دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ خیز مادہ کو ڈرون سے گرایا گیا جس سے دھماکہ ہوا لیکن ابھی بھی سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، این آئی اے کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں جلد حقائق سامنے آ جائیں گے، پہلے دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا اور دوسرا دھماکہ کھلے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نقصان نہیں ہوا، البتہ بھارتی فضائیہ کے دو جوان زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

واقعہ کے بعد جموں میں ہائی سیکورٹی والے مقامات پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور بھارتی سیکورٹی اداروں کو مزید چوکس کر دیا گیا،واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایچ ایس اروڑہ سے بات کی ہے

جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے دھماکوں کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ، فضائیہ اور دیگر ایجنسیاں حملے کی تحقیقات کررہی ہیں ۔ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے ۔ اس ڈرون حملے کے بعد پٹھان کوٹ ، امبالہ ، اونتی پور سمیت دیگر مقامات پر سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے