fbpx

دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ تحریر: محمد اشرف

دہشتگردی ایک ایسا موضوع ہے جو موجودہ دور میں بین الااقوامی سطح پر سے گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک مطلب براری کا وحشیانہ حربہ ہے جس کے ذریعے کچھ لوگ، گروہ یا ممالک اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر ہماری تاریخ میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں طاقت ور ممالک کی باہمی آویزشیں کئ صورتوں میں سامنے آئی ہیں ۔
دہشتگردی کے محرکات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔پہلے تو اسکی سرپرستی مختلف ممالک کررہے ہوتے ہیں ۔ایک ملک دہشتگردی کے ذریعے دوسرے ملک کو دبا کر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس ضمن میں دنیا کے طاقت ور ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مثلاً امریکا کی ایجنسی’سی آئی اے اور روسی ایجنسیاں وغیرہ سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں ۔ایسی ایجنسیاں خفیہ طریقوں سے ممالک میں دہشت گرد حملے کراتی ہیں ۔
دہشت گردی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں جیسا کہ فرقہ واریت ،طبقاتی کشمکش ،غربت وبے روزگاری اورخودکش دھماکہ وغیرہ دہشت گردی کی خطرناک ترین صورت ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور سے نجات کیسے ممکن ہے ۔اس ضمن میں بین الا قوامی سطح پر اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔یہ حقیقت ہے اگر اقوام متحدہ یہ پابندی لگا دے کہ کوئی ملک ذاتی دشمنی میں کسی دوسرے ملک میں کوئی تخریبی کاروائی یا دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کرسکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کا پودا جڑ سے نہ اکھڑ جائے۔مزید کہ عالمی سطح پر ناجائز قبضے ختم کروائے جائے تاکہ حاکم اور محکوم کے درمیان آویزش ختم ہو جائے۔
جہاں تک علاقائی دہشتگردی کا تعلق ہے، اسکو ختم کرنے کیلئے تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ہر ریاست کو چاہئے کہ عوام کیلئے مناسب تعلیم اور روزگار کا بندوبست کرے۔ قوم کے مناسب تعلیم اور بروقت روزگار مل جائے گا تو وہ خود ان سرگرمیوں سے دور رہیں گے ۔ اسطرع ملک میں عدل و انصاف پیدا ہوگا۔
ہمارے اساتذہ اور مزہبی زُعما کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔انھیں طالبعلموں اور عوام الناس میں رواداری ،برداشت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی چاہیے ۔ظاہر ہے کہ جب اَہل معاشرہ اِحترام آدمیت کے پاسدار ہو جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی بجائے ایک دوسرے کی راحت کے اَمین بن جائیں گے ۔

@M_Ashraf26