fbpx

دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

اس دنیا میں ہر ایک کے لیے زندگی اور موت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ موت و حیات کا یہ کارخانہ بنایا ہی اسی لیے گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما سکیں ۔جس وقت کوئی عزیر دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے، یہ صدمہ پہنچنا بھی فطری عمل ہے اس لیے فطری اظہار پر دین میں کوئی پابندی نہیں، لیکن اس کو حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ حدود آپﷺ نے مختلف موقعوں پر واضح فرما دیے ہیں۔ نوحہ نہ کیا جائے، چیخ وپکار نہ کی جائے اور اس طرح کی آوازیں بلند نہ کی جائیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا اظہار ہو۔

اس موقعے پر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار کرنا چاہیے، خود موت کو یاد کرنا چاہیے، اگر انسان صدمے کی کیفیت میں ہو تو خاموشی کو ترجیح دیں، اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں، نیکی اور خیر کی باتیں کریں اور سنیں۔انسان کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن صدمہ پہنچا ہے تو فطری طور پر کچھ وقت لگتا ہے جس کے بعد انسان سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین دن بہت ہیں۔ یعنی اگر آپ تین دن لوگوں کے لیے تعزیت کے لیے بیٹھ گئے ہو، اپنا کام کاج چھوڑا ہوا ہے یا اس صدمے کی کیفیت میں بسر کر رہے ہیں تو بس یہ تین دن بہت ہیں۔ اس کے بعد خود کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ دنیا کیوں کہ دارالعمل ہے تو آپ موت ہی کے ساتھ وابستہ ہو کر تو نہیں رہ سکتے۔ لوگ اس دنیا میں آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس دنیا سے رخصت بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے عزیز دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اولاد سے بڑھ کر کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔لیکن آپﷺ کو اپنے آغوش میں بیٹھے ہوئے بچوں کو رخصت کرنا پڑا ہے۔ اس میں نہ پیغمبروں کو استثناء حاصل ہے نہ ہی بڑے اور نیک لوگوں کو استثناء ہے۔ اس کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے ہی زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

ہمارے دین نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقعوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کی اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی جزا بیان کی ہے۔ یعنی وہ صبر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی خوشنودگی حاصل ہوتی ہے، صبر ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ملتی ہیں، اور صبر ہی ہے جس کا صلح اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جنت ہے۔

جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تعزیت کے لیے تین دن بہت ہیں، اسکے بعد آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہو جائیے۔ اگر آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہوں گے تو صدمے کی کیفیت میں بھی کمی ہو گی، آدمی کا دماغ پلٹتا ہے، خیالات میں تبدیلی آتی ہے ورنہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ صدمہ کی کیفیت میں بیٹھے رہیں گے تو وہ چیز زیادہ اثر انداز ہو گی۔ بعض لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، تو کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکل جانا چاہیے۔

میت کے لیے ایصالِ ثواب تو  ہر وقت، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے اور اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد جمع ہوں اور دعوت کے بغیر ہی اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی دین میں اجازت ہے۔ اس کے بعد یہ جو رسومات ہمارے ہاں بنا لی گئی ہیں مثال کے طور پر قل، چالیسواں، جمعرات، برسی وغیرہ یہ ہندوستان کی چیزیں ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان میں کوئی دینی چیز شامل کی جائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے بدعت قرار دیا جائے گا۔ اور بدعت سے ہر حال میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ 

اللہ تعالی ہم سب کو دین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین

@iamAsadLal

twitter.com/iamAsadLal