fbpx

دین اسلام میں یتیوں کے حقوق تحریر: محمد آصف شفیق

والدین زندہ ہوں تو وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں اللہ رب العالمین سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر سلامت رکھیں اور یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیں آمین ، دین اسلام میں یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال پر ا للہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو نبی رحمت ﷺ کے زریعے سے بہت سی نصیحتیں کیں ہیں اور انعامات کا بھی وعدہ فرمایا ہے آج ہم کوشش کریں گے کہ یتیموں کے حقوق کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے
یتیم :اردو لغت میں تنہا رہ جانے والا یا ایسا شخص جس کی طرف سےغفلت برتی جائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بھلاگھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 559
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان ذرا کشادگی رکھی۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 288

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 42

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سات مہلک چیزوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور جادو اور جس جان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کا سوائے حق کے قتل کرنا اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا، اور جنگ کے دن پشت پھیر کر بھاگ جانا اور غافل، مومن، پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1789

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 223

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2968

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے البتہ میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس کے مال میں سے کھا بغیر فضول خرچی کے اور بغیر ڈرے ہوئے اس کے بڑے ہوجانے سے اور بغیر پونجی بنانے کے اس کے مال سے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1105

حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے واسطے کچھ بھی (مال وغیرہ) موجود نہیں ہے اور ایک یتیم بچے کا میں ولی بھی ہوں۔ آپ نے فرمایا تم اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھا لیا کرو لیکن تم فضول خرچی نہ کرنا اور تم حد سے زیادہ نہ کھانا اور نہ تم دولت اکٹھا کرنا۔سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1609عون بن ابوجحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عامل زکوة آیا اور اس نے مالداروں سے زکوة وصول کرنے کے بعد ہمارے غریبوں میں تقسیم کر دی ایک میں یتیم بچہ تھا پس مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 632

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ بے شک وشبہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ مگر یہ کہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی بخشش نہ ہو۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2001

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں دو نا تو انوں کا حق (مال) حرام کرتا ہوں ایک یتیم اور دوسرے عورت ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 558

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدخلق شخص جنت میں نہ جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بتایا ہے کہ اس امت میں پہلی امتوں سے زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے ؟ (بہت ممکن ہے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ بدخلقی کریں) فرمایا جی ہاں لیکن ان کا ایسے ہی خیال رکھو جیسے اپنی اولاد کا خیال رکھتے ہو اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا ہمیں دنیا میں کونسی چیز فائدہ پہنچانے والی ہے ؟ فرمایا گھوڑا جسے تم باندھ رکھو اس پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں لڑو تمہارا غلام تمہارے لئے کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے (مسلمان ہو جائے) تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 571

نبی کریم ﷺ جہاں یتیوں کے خیال رکھنے پر انعامات کا وعدہ کیا ہے وہیں ان کے ساتھ بدسلوکی اور نا جائز ان کے مال ودولت پر قبضہ کرلینے پر سخت ترین سزا کا مستحق بھی بتایا ہے
جس گھر میں یتیم ہو اس سے اچھا سلوک کریں تو وہ سب سے اچھا گھر کہا گیا اور جس گھر میں یتیم ہو اس سے برا سلوک کیا جائے اسے برا ترین گھر کہا
اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں سے اچھا برتاو کرنے اور سنت محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نبی مہربان ﷺکا ساتھ نصیب فرمائیں

@mmasief