fbpx

دہلی فسادات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، دہلی ہائیکورٹ

دہلی فسادات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، دہلی ہائیکورٹ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دہلی میں ہونیوالے فسادات بارے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فسادات منظم منصوبہ بندی کے تحت کروائے گئے

دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات کے بارے میں ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فسادات منظم منصوبہ بندی کے تحت کروائے گئے، فسادات کسی واقعہ کے رد عمل میں نہیں ہوئے تھے بلکہ اس کے لئے باقاعدہ تیاری کی گئی تھی استغاثہ نے جو ویڈیو فوٹیج عدالت میں پیش کی ہیں ان میں مظاہرین کی حرکات واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کے ساتھ ساتھ شہرمیں لوگوں کے معمولات زندگی کو متاثر کرنے کے لئے منصوبہ بندی کر کے فسادات کروائے گئے فسادیوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کوبند کر دینا شہر میں نظم و نسق کی صورت حال کو بگاڑنے کے لئے کی گئی سازش کی تصدیق کرتا ہے

دہلی فسادات کے ایک ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے دہلی ہائیکورٹ کے جسٹس سبرامنیم پرساد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی منظم توڑ پھوڑ شہر میں امن و امان کو خراب کرنے کی پہلے سے طے شدہ سازش کی تصدیق کرتی ہے یہ بھی واضح ہے کہ سینکڑوں فسادیوں نے بے رحمی سے لاٹھیوں ڈنڈوں اور بلوں سے پولیس ٹیم پر حملہ کیا

کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

پاکستان میں کرونا ویکسین کہاں تک پہنچ گئی، مبشر لقمان کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اکرم کے تہلکہ خیز انکشافات

‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

ملزم محمد ابراہیم نے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر تلوار اٹھا رکھی تھی۔ ان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رتن لال کی موت تلوار سے نہیں ہوئی جیسا کہ رپورٹ میں ان کے زخموں کے بارے میں بتایا گیا ہے اور یہ کہ ملزم نے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے تلوار اٹھائی تھی ،عدالت نے کہا کہ حتمی شواہد جس کی وجہ سے عدالت ملزم کی قید میں توسیع کر رہی ہے وہ اس لئے کہ اس کے استعمال کردہ ہتھیار سے شدید چوٹ یا موت واقع ہو سکتی ہے اور یہ بادی النظر ایک خطرناک ہتھیار ہے

ہم جہنم میں جی رہے ہیں، دہلی ہائیکورٹ نے حکومت بارے دیئے ریمارکس

دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

حکومت کے خلاف احتجاج ،وزیراعلیٰ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

کسانوں کا بھارت بند، ٹرین روک دی ،احتجاج جاری

کسانوں کے احتجاج میں شامل خاتون نے لگایا مودی پر سنگین الزام

مودی سرکار کی تجویز نامنظور،کسانوں نے دوبارہ بڑا اعلان کر دیا

مر جائیں گے لیکن گھر نہیں جائیں گے، بھارت میں کسانوں کا اعلان

نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے،بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، بھوک ہڑتال شروع

کسان رہنماؤں کو قتل کروانے کی مودی سرکار کی سازش بے نقاب

کسان ٹریکٹر مارچ روکنے کیلئے فوج تعینات، کسانوں کا بھی مودی کو دبنگ پیغام

دہلی فسادات میں کم از کم 50 سے زائد مسلمان جان کی بازی ہا ر گئے تھے، مسلمانوں کے گھروں، دکانوں کو جلا دیا گیا تھا انکی کروڑوں کی املاک تباہ ہو گئی تھیں تا ہم اب چارج شیٹ میں مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے،چارج شیٹ میں جن لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں ان میں عام آدمی پارٹی کے معطل لیڈر طاہر حسین اور کئی طلبہ کے نام شامل ہیں۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ سیلم پور اور ظفرآباد میں فساد برپا کرنے کیلئے دو واٹس ایپ گروپس کا استعمال کیا گیا۔ تائید کرنے والوں نے درمیانی درجہ کے قائدین کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کو نشانہ بنایا۔ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اس احتجاج میں حصہ لینے کیلئے 20 کیلو میٹر پیدل چلے۔ شروع سے ہی یہ کوئی جمہوری احتجاج نہیں تھا۔ احتجاج کے پہلے دن سے ہی تشدد کیلئے بھڑکایا جارہا تھا۔ احتجاجیوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑے کرنے کی مہم چلاتے ہوئے غیرجمہوری طریقہ سے احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں تشدد کیلئے بھڑکایا گیا۔

دہلی پولیس نے چارج شیٹ میں مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے۔ دہلی میں دو گروپوں سی اے اے کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ بھی بھارت میں موجود تھے جہاں ٹرمپ اور مودی کی ملاقات ہورہی تھی۔ دہلی شہر کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر جھڑپیں دیکھی گئیں۔ تشدد، آتشزنی اور سنگباری کی وجہ سے 53 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے اور سینکڑوں گھر نذرآتش کئے گئے۔

دہلی تشدد کی تحقیقات کے لئے اسپیشل سیل نے 6 مارچ کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی کے تحت یہ چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے سبب اسپیشل سیل 20 افراد کو گرفتار کرچکی ہے، جن میں شرجیل امام، دیوانگنا، صفورا زرگر، نتاشا، عشرت جہاں، شفاء الرحمن، فاطمہ، میران حیدر شامل ہیں۔

قبل ازیں بھارت کے اقلیتی حقوق کمیشن نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ  دارالحکومت نئی دہلی میں رواں برس کے اوائل میں متنازع شہریت قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مسلمانوں کے قتل و غارت اور املاک کو نقصان پہنچانے میں قانون کے حامیوں کے ساتھ پولیس بھی شامل رہی۔

خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق دہلی کے اقلیتی کمیشن (ڈی ایم سی) نے اوپن رپورٹ جاری کی ہے، جس میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے منظم مظالم کو بیان کیا گیا ہے۔ڈی ایم سی نے کہا کہ رواں برس فروری میں متنازع شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے موقع پر شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھر، دکانیں اور گاڑیوں کو ہدف بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11 مساجد، 5 مدارس، مسلمانوں کی ایک درگاہ اور قبرستان پر حملہ کیا گیا اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔فسادات کے دوران ہونے والے مظالم کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ‘بظاہر احتجاج کو ختم کرنے کے لیے انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے ‘سی اے اے’ کے حامی مظاہرین نے بڑے پیمانے پر کشیدگی پھیلا دی’۔کمیشن نے کہا کہ پولیس نے مسلمانوں پر کشیدگی کا الزام دھرا حالانکہ وہ خود اس کا بدترین شکار ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ دہلی فسادات میں کم از کم 53 افراد کو قتل کیا گیا تھا جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔متنازع قانون کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور ان کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کو ان کی علاقوں سے بے دخل کرنے کی یہ سوچی سمجھی کوشش ہے۔

دہلی فسادات پرایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی پولیس کے کردار پر سوالات اٹھا دیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پولیس نے فسادات کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں اور مشتعل ہندو گروہوں کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ہوا جوکہ ان فسادات کا نشانہ تھے، پولیس نے فسادات کے دوران انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کو بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے پر کویت کا شکریہ ادا کرنا مہنگا پڑ گیا

گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے ہندو رہنمائوں کے خلاف پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس رپورٹ کی روشنی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ مساجد کی بھی بڑے پیمانے پر بے حرمتی کی گئی تھی۔۔یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز‘‘ نے بھی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ مسلم کش فسادات سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ فسادات کے دوران پولیس نے بھی دانستہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔

دہلی فرقہ وارانہ فسادات میں ملزمان آزاد، بے قصوروں کو جیل

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!