fbpx

دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے شمال مشرقی علاقوں جعفرآباد، کردم پوری، کبیرنگر، موج پور، گھونڈا، یمناوہار، چاند باغ، کھجوری، مصطفی آباد، بھجن پورہ وغیرہ میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج کو روکنے کے لئے فسادات کروائے گئے۔ اس کی ابتدا 23 فروری کو بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے کی جب انہوں نے اس حوالہ سے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا

کپل مشرا کے بیان نے ہندو انتہا پسندوں کو تشدد پر آمادہ کیا، ہندو درندوں نے اسی روز احتجاج کرنے والوں پر پتھراؤ کیا اور پھر 24 فروری کو اس میں شدت پیدا ہوئی اور پورے علاقہ میں قتل عام، آتشزدگی، لوٹ مار اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا، اگر پولیس اور حکومت بروقت کپل مشرا کے خلاف کارروائی کرتی تو شاید فسادات نہ ہوتے.

دہلی کے متاثرہ علاقوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سیّد ارشد مدنی نےدہلی کے علماکا ایک تین رکنی وفد کو متاثرہ علاقوں میں جانے کا کہا، وفد میں صوبہ دہلی کے جنرل سیکریٹری مفتی عبدالرازق، نائبین صدر مولانا عبدالسلام اور قاری دلشاد شامل ہیں۔ وفد نے گروتیغ بہادرہسپتال جاکر فسادات میں ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی اور لواحقین کو ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

دہلی فسادات میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں اب تک تقریباً 400 سے زائد لوگ زخمی ہیں، ان میں سے 60 سے 70 لوگ ایسے ہیں جن کو گولیوں سے نشانہ بنایا اور وہ زخمی ہوئے،40 کے قریب لوگ فسادات میں مارے جا چکے ہیں.

جمعیت علماء ہند کے وفد نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ایڈمنسٹریشن، پولیس اور ہندو انتہا پسندوں نے مل کر منصوبہ بندی کے تحت قتل و غارت گری، لوٹ مارکی اور گھروں، دکانوں، مساجد کو آگ لگائی، پولیس نے انتہا پسندوں‌ کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی.کیجریوال کی سرکار سمیت مرکزی حکومت بھی علاقے میں امن وامان قائم کرنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ اگردہلی محفوظ نہیں رہے گا تو بھارت کے دیگر حصے کیسے محفوظ رہ پائیں گے۔

وفد کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی بدنیتی کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دو دن ہوچکے ہیں اور فسادات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن حکومت نے ابھی تک کرفیو نہیں لگایا جس سے حالات پر قابو پایا جاسکے۔

جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سیّد ارشد مدنی نے دہلی فسادات پر اپنے سخت ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ طے شدہ پلان کے تحت ہورہا ہے۔ یہ فساد دراصل متنازعہ شہریت بل کے خلاف شاہین باغ سمیت پورے ملک میں ہونے والے عوامی احتجاج کو کمزور کرنے کے لیے کیا جارہاہے تاکہ اس فساد کے بعد امن و امان کے نام پر یہ احتجاجات بند کرادیئے جائیں۔

مولانا ارشد مدنی کا مزید کہنا تھا کہ کپل مشرا جیسے فساد بھڑکانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے.

دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مساجد اور درگاہوں کی بھی بے حرمتی کی جا رہی ہے، بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

دہلی میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ،مسلمانوں‌ کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت

مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش،گھر کا گھیراؤ ہونے پرکیجریوال نے کی فوج طلب،مودی نے کیا انکار

دہلی میں منصوبے کے ساتھ حملے کئے گئے، سونیا گاندھی کا انکشاف، کہا امت شاہ دے استعفیٰ

دہلی،4 ماہ قبل شادی کرنیوالی شازیہ بیوہ ،مارے جانے کے خوف سے شازیہ برقت اتارنے پر مجبور

سوشل میڈیا پر وائرل اپنی تصویر دیکھنے کی ہمت نہیں،ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے زخمی نوجوان کی گفتگو

دہلی ، سکول، گاڑیاں ،گھر سب جلا دیئے گئے، تصاویر باغی ٹی وی پر

دہلی تشدد، کی گئی منصوبہ بندی، واٹس ایپ گروپ بنا کر دیئے گئے ٹارگٹ، پتھراؤ، گھر جلانے کی ڈیوٹیاں لگیں

دہلی، فسادات کے دوران مسلمان لڑکی کو اغوا کیے جانے کا خدشہ،لواحقین پر قیامت کی گھڑی

امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے 37 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں، پولیس بھی ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی، ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے، اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے

دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد