نماز کیلئے مسجد میں تھے، غنڈوں نے دروازے توڑ کر تشدد کیا اور آگ لگا دی،دہلی میں کتنی مساجد کو شہید کیا گیا؟

نماز کیلئے مسجد میں جمع تھے، غنڈوں نے دروازے توڑ کر تشدد کیا اور آگ لگا دی،دہلی میں کتنی مساجد کو شہید کیا گیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے کے دوران چار مساجد کو شہید کیا گیا

ہندو انتہا پسندوں نے مساجد کی دکانوں میں لوٹ مار بھی کی، اور پٹرول بم پھینکے، مساجد کے گردونواح میں مسلمانوں کے گھروں کو بھی لوٹ کر آگ لگائی گئی.

عینی شاہدین کے مطابق جو فاروقیہ مسجد کے اندر نماز کے لئے موجود تھے کہ ہندو انتہا پسندوں کا مسلح گروہ مسجد کے دراوزے توڑ کراندر داخل ہوا اورنمازیوں پر تشدد بھی کیا، بعد ازاں انہوں نے مسجد پر پٹرول بم پھینک کر آگ لگائی، نمازیوں پرتیزاب بھی پھینکا گیا،مسجد کے مینار کی بالائی حصہ میں ’جئے شری رام‘ تحریر کردہ بھگوا جھنڈا‘ اور اس کے نیچے ترنگا ہندو انتہا پسندوں نے لہرایا.

ہندو انتہا پسندوں نے اشوک نگر کے علاقہ میں بھی ایک مسجد کو شہید کیا ، مساجد میں جا کر نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا،توڑ پھوڑ کی گئی ،اور بعد ازاں آگ لگائی گئی ،عینی شاہدین کے مطابق ہندو انتہا پسندوں نے مسجد پر پہلے پتھر برسائے اور پھر دروازے توڑے اور اندر آکر نماز پڑھنے والوں‌کو تشدد کا نشانہ بنایا،بعد ازاں آگ لگا دی

مسجد کے ساتھ متصل عمارت کو بھی جو تین منزلہ تھی کو بھی انتہا پسندوں نے جلا دیا، اس سے قبل پولیس نے وہاں سے مکینوں کو تھانے بلا لیا تھا جس کی وجہ سے اس عمارت میں کوئی موجود نہیں تھا ،مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہمیں کیوں بلایا اس کی کوئی وجہ نہیں تھی، یہی سامنے آتا ہے کہ ہمیں تھانے بلا کر مسجد شہید کروا دی اور ہمارے گھر جلوا دیئے گئے، مسجد کے ساتھ آٹھ دکانوں کو بھی لوٹ کر آگ لگائی گئی

اشوک نگر کے علاقے ای بلاک میں بھی انتہا پسندوں نے ایک مسجد پر حملہ کیا، مسجد کے ساتھ متصل اکبر نامی شکص کی گوشت کی دوکانوں کو بھی آگ لگائی گئی ،عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسندوں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور انکی کوئی شناخت نہیں تھی وہ بس مسلمانوں کو پاکستان جانے کا بار بار کہہ رہے تھے اور مسلمانوں کے گھروں ،مساجد کو آگ لگا رہے تھے

ہندو انتہا پسندوں نے مصطفے آباد میں جہاں متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، اس کے قریب بھی ایک مسجد کو شہید کیا.

دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مساجد اور درگاہوں کی بھی بے حرمتی کی جا رہی ہے، بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

دہلی میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ،مسلمانوں‌ کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت

مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش،گھر کا گھیراؤ ہونے پرکیجریوال نے کی فوج طلب،مودی نے کیا انکار

دہلی میں منصوبے کے ساتھ حملے کئے گئے، سونیا گاندھی کا انکشاف، کہا امت شاہ دے استعفیٰ

دہلی،4 ماہ قبل شادی کرنیوالی شازیہ بیوہ ،مارے جانے کے خوف سے شازیہ برقت اتارنے پر مجبور

سوشل میڈیا پر وائرل اپنی تصویر دیکھنے کی ہمت نہیں،ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے زخمی نوجوان کی گفتگو

دہلی ، سکول، گاڑیاں ،گھر سب جلا دیئے گئے، تصاویر باغی ٹی وی پر

دہلی تشدد، کی گئی منصوبہ بندی، واٹس ایپ گروپ بنا کر دیئے گئے ٹارگٹ، پتھراؤ، گھر جلانے کی ڈیوٹیاں لگیں

دہلی، فسادات کے دوران مسلمان لڑکی کو اغوا کیے جانے کا خدشہ،لواحقین پر قیامت کی گھڑی

امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے 37 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ 400 سے زائد زخمی ہیں، پولیس بھی ہندو انتہا پسندوں کا ساتھ دیتی رہی، ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی کرتے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے، اس دوران صحافیوں پر بھی حملے کئے گئے

دہلی،گھرجل گئے،بیٹے مار دیئے گئے، پھر بھی مسلمانوں نے صلہ رحمی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.