fbpx

آفات،مشکلات اورسانحات کے باوجود پاکستان کی فضائی صنعت کو ابھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں :غیرملکی ماہرین

بیجنگ :آفات،مشکلات اورسانحات کے باوجود پاکستان کی فضائی صنعت بہت بڑا مقام حاصل کرسکتی ہے: ماہرین معیشت ،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی معاشی صورت حال کے بارے میں فضائی صنعت کے ماہرین معیشت نے مختلف زاویوں سے کچھ تجزیے اورتبصرے کیے ہیں،

لونیس بائر جو کہ فضائی سفر کے حوالے سے بہترین معلومات اورتجزیات رکھنے والے شخص ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، جس کی 22 کروڑ سے زیادہ آبادی میں متوسط طبقہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں معاشی ڈھانچہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہوا ہے۔ دیگر شعبوں کے مقابلے میں سروس سیکٹر میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں کئی گنا چیلنجوں کے باوجود معیشت بلند اور پائیدار ترقی کی راہ پر بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ ان حالات میں جہاں بہت سے شعبوں اورپہلووں میں بہت زیادہ بہتری آرہی ہے وہاں پاکستان کی فضائی صنعت ایک بڑے دیو ہیکل کی طرف ایک بوجھ بھی بنتا جارہاہے ہے جسے وبائی امراض کے اثرات سے بیدار ہونے اور بہتر مستقبل کے مواقع کو فوری طور پر حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وبائی مرض سے پہلے پاکستان کے ہوائی نقل و حمل کے شعبے میں اگلے 20 سالوں میں 180 فیصد سے زیادہ ترقی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

لونس بائر کہتےہیں‌کہ ان کے علم کے مطابق 2019 میں پاکستان میں 500,000 سے زائد براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں ہوائی نقل و حمل کے شعبے سے پیدا ہوئیں۔ آج، پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.3 فیصد ایوی ایشن سیکٹر کے ان پٹ اور ہوائی جہاز کے ذریعے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی مدد سے ہے۔ 2019 میں پاکستان سے تمام بین الاقوامی روانگی نشستوں کا 85 فیصد مشرق وسطیٰ کی منزلوں پر تھا

ان کا خیال ہے کہ جس طرح پاکستان دیگرشبعوں مین مشکلات کے باوجود بہتری کی طرف جارہا ہے ایسے ہی پاکستانی ایئر لائن انڈسٹری کی تقدیر وبائی امراض کے بعد کے دور میں بدلنے والی ہے۔

ان کا یہ بھی خیال ہےکہ ایک طرف پاکستانی ہوابازی کا شعبہ مخصوص چیلنجوں کے ایک بڑے مجموعے سے نمٹ رہا ہے: سیاسی عدم استحکام، سیکورٹی کے حالات، ناکافی انفراسٹرکچر، ناقص حفاظتی کلچر، ریاستی پالیسی میں عدم مطابقت، ٹیکس کے متضاد قوانین، کمزور اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور فنڈز تک ناقص رسائی۔ ساختی اصلاحات کا فقدان اور غیر معاون اقتصادی پالیسیاں۔لیکن اس کے باوجود وہ امید کی کرن دیکھ رہے ہیں

لونس بائر کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پاکستان ایئر لائن کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے عملے کا معیار اور فلیٹ ایئر قابلیت حفاظتی معیارات کے مطابق ہو۔ اس طرح بین الاقوامی ریگولیٹرز جیسے EASA، ICAO اور FAA کو مطمئن کرنا بھی اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے

فضائی صنعت کے ماہر لونس بائر کہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہونے کے باوجود نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں اس ادارے کا مستقبل چلا گیا ہے ۔ وبائی امراض کے بعد کے دور میں مالی طور پر پائیدار ہونے کے لیے، خسارے میں چلنے والے کیریئر کو آمدنی میں اضافہ، لاگت کو کم کرنا اور اپنی بیلنس شیٹ کو از سر نو تشکیل دینا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ممکنہ صارفین کے درمیان اعتماد بحال کرنے، موجودہ پابندی والے روٹس پر فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کرنے اور مجموعی آمدنی میں اضافے کے لیے دیگر ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئرنگ معاہدوں کو بڑھانے میں مدد کریں گے۔

ان کا خیال ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہیں جہاں افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد نوجوان ہے جو کہ کل آبادی کا اعلی تناسب (15-33 سال: 63 فیصد ہے جو کہ ملکی ترقی میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں‌

ان کا خیال ہے کہ وہ یہ دیکھ رہےہیں کہ پاکستان میں بہت سی رکاوٹوں کے باوجود، حالیہ برسوں میں وہاں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔ اگر ہم پاکستانی ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں کے موجودہ میکرو ماحول پر نظر ڈالیں تو بڑے سوئے ہوئے دیو کو جگانے کے لیے ساختی اصلاحات اور معاشی پالیسی میں تبدیلیاں ضروری ہوں گی۔

مثال کے طور پر، پاکستانی حکومت کو پاکستانی عوام کے لیے ہوائی سفر کو مزید سستی بنانے کے لیے ہوائی ٹکٹوں پر بھاری ٹیکسوں کو معقول بنانا ہوگا۔ دیگر ملکوں کی نسبت فضائی سفر کو آسان اورسستا ترین بنانا ہوگا اوراس صنعت کو کوششوں سے بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!