fbpx

بارشوں اورسیلابوں کے باوجود پانی پینے پرپابندی کیوں؟ریاست مسی سیپی سے اہم خبرآگئی

جیکسن :پانی کی کمی بھی نہیں مگرپھر بھی پانی نہیں پینا،یہ گزارش ایک امریکی ریاست کی انتظامیہ کی ہے ،اس ریاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بعد موسلا دھار بارشوں اور سیلابوں نے متعدد بڑے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال امریکہ میں بھی پائی جارہی ہے جہاں مستقبل قریب میں ریاست مسی سیپی کا شہر جیکسن میں جہاں سیلاب کے بعد غیر معینہ مدت تک پینے کے قابل پانی کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔

اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپ میں خرابی کے بعد ایک لاکھ 80 ہزار لوگوں کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں اور شہریوں کو بوتلوں اور ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔

مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے موجودہ صورتحال سے متعلق شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں چلنے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو گزشتہ کئی سال سے خراب طریقے سے چلایا جارہا تھا اور اس کی بڑی وجہ عملہ کی کمی بھی تھی۔

امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست مسی سیپی کے دارالحکومت جیکسن میں 80 فیصد سے زیادہ آبادی سیاہ فام یا افریقی امریکیوں کی ہے۔

پانی کی قلت کے حوالے سے مسی سیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ دریائے پرل میں آنے والے حالیہ سیلاب کی وجہ سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پمپوں کو چلانے والی موٹریں حال ہی میں خراب ہوئیں جس کے بعد بیک اپ پمپس سے کام چلایا جاتا رہا تاہم اب وہ بھی خراب ہوگئے۔

مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

گورنر ٹیٹ ریوز نے خبر دار کیا کہ جب تک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا نظام ٹھیک نہیں ہوجاتا جب تک ہمارے پاس بڑے پیمانے پر بہتا ہوا پانی قابل بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ شہر میں آگ بجھانے کیلئے، بیت الخلاء کے استعمال کیلئے اور دیگر اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کی مطلوبہ مقدار موجود نہیں۔