fbpx

لاہورہائی کورٹ نے کن وجوہات کی بنیاد پرضمانت دی:شہباز شریف کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری

لاہور:ہائی کورٹ نے کن وجوہات کی بنیاد پرضمانت دی:شہباز شریف کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کی ضمانت سے متعلق فل بینچ کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے 27 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

عدالتِ عالیہ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن سے اخلاقیات کے اعلیٰ معیار کے مظاہرے کی توقع ہوتی ہے، عوامی عہدے پر کرپٹ آ جائے تو جمہوری نظام سے عوامی اعتماد چکنا چور ہو جاتا ہے۔

اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ نیب نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے فنڈز میں پارٹی کے سیاسی حامیوں نے کچھ خاص رقم دی تھی جو درخواست گزار کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کی گئیں۔

ہائی کورٹ کی طرف سے کہا گہا ہے کہ اگر یہ معاملہ ہوتا تو ، یہ تنازعہ بن جاتا زیادہ تر دو افراد کے مابین یا کسی معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعہ منی ٹریل کی تجویز دے کر بعض ناپسندیدہ افراد سے پارٹی فنڈ جمع کرنے پر غور کیا جاتا۔عدالت نے اس موقع پر کہا کہ اگریہ پارٹی فنڈز تھے توپھرالیکشن کمیشن سے کیوں رجوع نہ کیا گیا

 

اس فیصلے میں کہاگیا کہ نیب نے پھرالزامات کے بعد ان معاملات کی انکوائریاں کیوں نہ کیں، نیب کی طرف الزامات لگانے کے بعد پھرانکوائری نہ کرنے سے فائدہ شہبازشریف کوپہنچتا ہے

عدالت نے بریگیئر (ر) امتیاز احمد کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے ملزم کے انکم ٹیکس اور دولت ٹیکس کی دستاویزات تیار کیں لیکن اس کی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ تلاش کرنے میں ناکام رہا اور اس کی اہلیہ کے بےنامی ٹرانزیکشن ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا ،لہذا اب یہ قانون ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن میں لین دین سچائی کا جواز پیش کرتا ہے۔

عبد العلیم خان بمقابلہ ریاست کیس میں (ڈبلیو پی پی نمبر 16630 2019) نے 15.05.2019 کو فیصلہ کیا کہ اس عدالت نے بھی اس بنیاد پر ضمانت منظور کی کہ انکم ٹیکس گوشواروں میں جائیدادیں قرار دی گئیں۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندے پر کرپشن کے الزامات سے سیاسی نقصان پہنچتا ہے جو شکست کی قسم ہے، پبلک آفس ہولڈر کو سو فیصد مسٹر کلین ہونا چاہیئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فرد کی آزادی کے بنیادی اصول مدِنظر رکھنا ہماری ذمے داری ہے، آزادی کے بنیادی اصولوں کی بنا پر ضمانت منظور یا مسترد کی جاتی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضمانت بعد از گرفتاری میں آزادی کے اصولوں پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے، شہباز شریف کیس مزید انکوائری کا متقاضی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا اپنے تفصیلی فیصلےمیں کہنا ہے کہ شہباز شریف نے کوئی جائیداد خریدی نہ ان کی ملکیت ہے۔

تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے فیملی ممبرز کا ان کی کفالت میں ہونے کا براہِ راست ثبوت نہیں دیا گیا۔

عدالتی تفصیلی فیصلے میں ضمانت منظور کرنے کیلئے 5 اہم فیصلوں پر انحصار کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.