fbpx

ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

ذیابیطس جسے عرفِ عام میں شوگر کہتے ہیں دراصل جسم میں گلوکوز کی مقدار کے توازن کے بگڑنے کا نام ہے۔ انسان کے جسم کے لیے گلوکوز توانائی کا کام کرتا ہے۔ جسم میں جانے والی خوراک میں گلوکوز، پروٹین اور چربی شامل ہوتی ہے۔ بہت سی اجناس جیسے گندم، چاول، مکئی وغیرہ میں کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو ہاضمے کے نظام سے گزر کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں جسے انسانی جسم توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مگر خون میں متواتر گلوکوز بڑھ جانے سے یہ جسم کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے گردے خراب ہو سکتے ہیں، بینائی جا سکتی ہے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں، دماغ پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، حتی کہ اگر انسانی خون میں گلوکوز کی مقدار بے حد بڑھ جایے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

مگر گلوکوز کی یہ مقدار کم یا زیادہ کیسے ہوتی ہے؟ انسانی جسم میں ایک عضو ہوتا ہے جسے لبلبہ کہا جاتا ہے۔ لبلبے میں کچھ مخصوص خلیے ہوتے ہیں جو ایک خاص طرح کا ہارمومن خارج کرتے ہیں۔ اسے اِنسولین کہا جاتا ہے۔اِنسولین کا کام خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے جسم انسانی خلیے انسولین کے خلاف مزاحمت شروع کر دیں یا انسولین مقررہ مقدار میں پیدا نہ ہو تو یہ ذیابیطس کی دوسری قسم کہلائی جائےگی جسے ٹائپ ٹو ڈائبیٹز کہتے ہیں۔

اسی طرح اگر لبلبہ انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کھو دے تو بھی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے گی۔اسے ذیابیطس کی پہلی قسم یعنی ٹائپ ون ڈائبیٹیز کہیں گے۔ پہلی قسم میں مریض کو انسولین کے ٹیکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں عموماً بہتر خوراک، احتیاطی تدابیر اور مناسب ورزش سے ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انٹرنیشنل ڈائبیڑز فیڈریشن کے 2021 کےاعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اور یہ تعداد 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 7 ملین کے قریب ہو جائے گی۔اسی طرح 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق
ذیابیطس سے ہر سال تقریباً 16 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کی زیادہ تعداد تیس سال سے زائد افراد کی ہے مگر یہ مرض کچھ تعداد میں نوجوانوں اور بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک آدمی اس بیماری میں مبتلا ہے جن میں سے اکثریت اس بیماری کی علامت لیے اس سے لاعلم ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض رکھنے والے ممالک میں چین اور بھارت کے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر پے۔ جس میں2021 کے اعداو شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کو تشخیص شدہ ذیابیطس ہے۔

اسی طرح پاکستان میں 60 سال سے کم عمر میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد ذیابیطس کی وجہ سے ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کے سنگین مسائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔جن میں بروقت عالج می سہولیات کا فقدان، آگاہی نہ ہونا اور کھانے پینے میں بداحتیاطی، ورزش نہ کرنے اور دیگر غیر صحتمندانہ عادات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

اس رپورٹ کے آنے کے بعد ملک بھر کے طبی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے لیے مختص بجٹ کو بڑھایا جائے۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال آبادی بڑھنے کی رفتار کے مقابلے میں صحت کا بجٹ کے بڑھنے کی رفتار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔

بین االاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ہر شہری پر صحت کی مد میں حکومت کو کم سے کم 86 ڈالر سالانہ خرچ کرنا ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں اس وقت ہر شہری پر حکومت محض 14 ڈالر خرچ کر رہی ہے باقی 28 ڈالر وہ اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے اور 3 ڈالر دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔

صحت کے حوالے سے غیر سنجیدگی اور ذیابیطس کے بڑھتے مرض کے تناظر میں لوگ کریلے کا جوس نہیں پیئیں گے تو اور کیا کریں گے؟