fbpx

احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

لاہور:احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کے مقالے کی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد جو کہ ماس کمونیکیشن کے طالب علم انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت کے حوالےسے کچھ چیزیں بیان کی ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ جوحقائق اس وقت احساس پروگرام کی افادیت کو ثابت کرنےکےلیے پیش کیے جارہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ایک صارف کی طرف سے جواس قسم کے حقائق پیش کیے گئے ان میں غلط بیانی کی گئی ہے

احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ لوگوں کومستفید کریں گے، ثانیہ نشتر

رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ مصنفین نے غربت کے خاتمے میں خان کی پالیسیوں کی تعریف کی، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ جیسا کہ فیس بک صارف جواد ملک نے لکھا، "مطالعہ اسٹینفورڈ کا اپنا نہیں ہے،یہ کہ ایک غیرملکی مصنف، ڈیلیوری ایسوسی ایٹس، کی طرف سے حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود احساس پروگرام کے حوالے سے ایک متعلقہ عنصرہے

وزیراعظم کے احساس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا گیا یے،بلال غفار

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنی تازہ ترین تقریر میں اسٹینفورڈ کی تحقیق کا حوالہ دیا، جب کہ اسے فیس بک صارف کے دعوے کے مطابق شائع بھی نہیں کیا گیا۔

 

رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے احساس پروگرام کو بل گیٹس جیسے بہت سے لوگوں نے سراہا اور پاکستان میں غربت کے بڑے مسائل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا

*وزیر اعظم کا احساس پروگرام بنا امید سحر*

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ملک سے غربت کے خاتمے اور غریب کو معاشی طور پر سہارا دینے کیلئے متعارف کروائے گئے "احساس پروگرام” کے حوالے سے دنیا مثالیں دینا شروع ہوگئی ہے۔

امریکہ کی عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹی "سٹینفورڈ”نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں دنیا کواحساس پروگرام کی مثال دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کا طریقہ کار سیکھ سکتی ہے۔

مقالہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے کمزور ترین طبقے کو اوپر لانے کیلئے احساس پروگرام دنیا کا ایک بہترین پروگرام بن کر سامنے آیا ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018 کے بعد کورونا بحران کےدنوں میں متعارف کروائے گئے احساس پروگرام کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ مقالہ شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے ایک جامع اور مربوط ہدف میں معاشی طور پر کمزور پاکستانیوں کو مدد کا نظام متعارف کروایا گیا، جس میں غیر مشروط نقد رقم کی منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی، اور صحت اور غذائیت کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں کہا گیا ہے ہم دنیا بھر کے ممالک میں متعارف کروائی گئی پالیسیوں اور پرواگرامز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں سے بہترین اصلاحات کو عالمی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم جن اصلاحات کو چنتے ہیں ان میں خاص طور پر اچھی قیادت، مضبوط اداروں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کے موثراستعمال، انسداد غربت کیلئے مربوط نظام جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

مقالے میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام پر تجزیے کے دوران ثابت ہوا ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی نے شفافیت، شفافیت ،استفادہ کنندگان اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018میں ملک کے کمزور ترین طبقے کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کیلئے "احساس پروگرام” متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے ایک منظم نظام کے ذریعے لوگوں کی نقد رقم، تین وقت کے کھانے، رہائش کیلئے پناہ گاہوں اورٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے مدد کی گئی۔