fbpx

دل میں خیال بیٹھ گیا کہ مرد سچے نہیں ہوتے، عصمت زیدی

معروف اداکارہ عصمت زیدی کا کہنا ہے کہ شادی ٹوٹنے کے بعد نہ جانے کیوں ان کے دماغ میں یہ خیال گھر کر گیا تھا کہ مرد سچے نہیں ہوتے۔عصمت زیدی نے ’فوشیا میگزین‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں پہلی بار اپنی ذاتی زندگی سمیت پیشہ ورانہ زندگی پر بھی کھل کر بات کی اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 1995 کے بعد اداکاری کا آغاز کیا اس سے پہلے وہ ایک فلاحی ادارے میں کام کرتی تھیں اور ادارے کے لیے فنڈ جمع کرنے کے ایک پروگرام میں انہوں نے اسٹیج ڈراما کیا، جسے دیکھنے ایک ٹی وی ہدایت کار بھی آئےتھے، جنہوں نے بعد میں انہیں کام کی پیش کش کی۔ انہیں پہلا کردار بھی مضبوط خاتون کا کردار ملا اور انہوں نے ڈرامے میں ایک خودمختار کاروباری خاتون کا کردار ادا کیا، جو شوہر پر حکم چلاتی دکھائی دیتی تھیں۔اداکاری شروع کرنے کے کچھ عرصے بعد ہی ان کی طلاق ہوگئی تھی۔ عصمت زیدی کا کہنا تھا کہ جب ان کی طلاق ہوئی تو اس وقت ان کے بیٹے کی عمر 18 سال تک تھی۔ دوسری شادی نہ کرنے کے سوال پر عصمت زیدی نے بتایا کہ اگر وہ دوسری شادی کرلیتیں تو ان کے بچوں کے پاس کیا رہ جاتا ان کا والد تو پہلے ہی ان سے چلا گیا اور اگر وہ بھی شادی کر لیتیں تو وہ بھی ان کے پاس نہ رہتیں، کیوں کہ اگر وہ کسی سے شادی کرتیں تو مرد کی اپنی ہی شرائط ہوتیں۔ساتھ ہی اداکارہ نے بتایا کہ طلاق ہوجانے کے بعد ان کے ذہن میں نہ جانے کیوں یہ خیال بھی بیٹھ گیا تھا کہ مرد کبھی سچا نہیں ہو سکتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.